مسلمان نئے دور میں
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۷
مسلمان نئے دور میں
امریکا میں مسلمان تقریباً ۲ ملین کی تعداد میں رہتے ہیں۔ ایک حالیہ اقتصادی سروے میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت امریکا کی فی کس آمدنی ۳۴ ہزار ڈالر سالانہ ہے۔ لیکن جہاں تک امریکی مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کی فی کس آمدنی ۴۲ ہزار ڈالر سالانہ ہے، یعنی دوسرے امریکیوں کے مقابلے میں تقریباً ۱۰ ہزار ڈالر زیادہ۔
تقریباً یہی معاملہ ہندوستان کا ہے۔ آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلم رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں مسلمان ہندوستان کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار تھے۔ مسلمان عام طور پر یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ لیکن مختلف واقعات کے نتیجے میں مسلمانوں کے اوپر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ حقیقت کھلی کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے ایسے مواقع موجود ہیں جو خود مسلم ملکوں میں بھی نہیں ہیں۔ اس کے بعد یہاں کے مسلمان تیزی سے ترقی کی دوڑ میں سرگرم ہوگئے۔ اب یہ حال ہے کہ ہندوستان کا مسلمان نہایت تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ امریکا کی طرح ہندوستان میں بھی مسلمان اقتصادی ترقی کے معاملے میں دوسری قوموں سے آگے بڑھ جائیں۔
ایسا کیوں ہے، اس کا سبب یہ ہے کہ ۵۷ مسلم ملکوں میں سے ہر ایک میں، کم وبیش، ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم ہے۔ ڈکٹیٹر شپ کا نظام ہمیشہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتا ہے۔ جب کسی ملک میں ڈکٹیٹر شپ آتی ہے تو وہاں سے دو بنیادی چیزوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے— امن اور آزادی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ترقی کے لیے امن اور آزادی دونوں لازمی طور پر ضروری ہیں۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس کی بنا پر مسلمان مسلم ملکوں میں زیادہ ترقی نہ کر سکے۔
امریکا اور ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمانوں کا ترقی کے راستے میں سرگرم ہونا اس لیے ہے کہ یہاں جمہوریت ہے۔ یہاں سیکولرازم اور آزادی کا ماحول ہے۔ یہاں ہر ایک کے لیے کام کرنے کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues