مسلمان نئے دور میں
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۸
مواقع یکساں طور پر موجود ہیں ۔ اس لیے امریکا اور ہندوستان جیسے ملکوں میں مسلمان کسی رکاوٹ کے بغیر ترقی کے راستے میں سرگرم ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی راہوں میں دوڑنا چاہتا ہے ۔ انسان کی ترقی کے لیے اس کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں کہ اس کو تمام راہیں کھلی ہوئی نظر آئیں ۔ یہی معاملہ امریکا اور ہندوستان جیسے ملکوں میں ہوا ۔
مسلم ملکوں میں ڈکٹیٹر شپ کیوں آئی ۔ اس کا سبب عام طور پر خود مسلم حکمرانوں کو سمجھا جاتا ہے ۔ مگر یہ بات یقینی طور پر غلط ہے ۔ اس ڈکٹیٹر شپ کا سبب تمام تر وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو اسلام پسند جماعتوں کے نام سے مشہور ہیں ۔ ان جماعتوں نے انتہائی بے دانشی کے ساتھ یہ کیا کہ نظامِ مصطفیٰ اور قانونِ شریعت کے نفاذ کے نام پر اپنے ملکوں کے مسلم حکمرانوں کے خلاف انتہا پسندانہ تحریکیں شروع کردیں ۔ یہ طریقہ مکمل طور پر وقت کے مصالح کے خلاف تھا ۔ چنانچہ وہ الٹے نتیجے کا سبب بن گیا ۔ یہی نام نہاد اسلام پسندانہ سیاست واحد سبب ہے جس کی وجہ سے مسلم ملکوں میں ہر جگہ ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم ہوگیا ۔
مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے کی اسلام پسند تحریکیں کسی مثبت فکر کے تحت نہیں اٹھیں وہ صرف حالات کے ردِّعمل کے تحت اٹھیں ۔ یہ دراصل ردعمل کی تحریکیں تھیں جن کو غلط طور پر اسلامی تحریک کا نام دے دیا گیا ۔
اٹھارویں صدی عیسوی میں جب مغربی قومیں نئی طاقتوں کے ساتھ ابھریں اور دھیرے دھیرے وہ پوری مسلم دنیا پر چھا گئیں ۔ تہذیب اور سیاست دونوں اعتبار سے ان کا غلبہ مسلم دنیا پر قائم ہوگیا ۔ یہاں تک کہ مغل سلطنت اور اسلامی سلطنت اور دوسری مسلم سلطنتیں یا تو ختم ہوگئیں یا مغلوب ہو کر رہ گئیں ۔
یہ صورت حال پیش آنے کے بعد تمام دنیا کے مسلمانوں میں اس کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان کوئی ایجابی موقف اختیار نہ کرسکے ۔ اُن کے درمیان جو ذہن اُبھرا وہ یا توٹکراؤ کا ذہن تھا یا تحفظات کا ذہن ۔ اس ذہن کے تحت، مسلمانوں نے جہاد کے نام پر ٹکراؤ شروع کردِیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues