Al-Risala · July 2006 · page 9

مسلمان نئے دور میں

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۹

کچھ لوگوں نے شریعت کے تحفظ کا نعرہ اختیار کیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ملّت کی شناخت خطرے میں ہے۔ اور وہ بطور خود ملّت کی شناخت کی حفاظت میں مصروف ہوگئے۔ کچھ لوگوں نے یہ سوچا کہ جگہ جگہ مسلمانوں کا علیحدہ خطّہ بنانا چاہیے۔

اس قسم کی تحفظاتی کوششوں پر اب تقریباً دوسوسال گزر چکے ہیں لیکن نتیجہ برعکس صورت میں ظاہر ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سوچ فطرت کے نظام کے خلاف تھی۔ فطرت کا نظام مسابقت (competition) کے اصول پر قائم ہے نہ کہ تحفظ کے اصول پر۔ دنیا میں کبھی کسی گروہ کو تحفظ کے طریقے پر چل کر ترقی حاصل نہ ہوسکی۔

مسلم رہنماؤں نے مسلم حکومتوں کو اسلام کا ’’تحفظاتی قلعہ‘‘ قرار دیا تھا۔ لیکن اس نام نہاد تحفظاتی قلعے میں مسلمان ترقی نہ کر سکے۔ اس کے مقابلے میں امریکا اور ہندوستان جیسے سیکولر ملکوں کو انھوں نے مسلم دشمن کا ٹائٹل دیا تھا مگر انھیں ’’دشمن‘‘ ملکوں میں مسلمان سب سے زیادہ ترقی کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ مسلم ملکوں میں ہر جگہ نظریاتی انتہا پسندی کا ماحول ہے، اور نظریاتی انتہا پسندی کے ماحول میں ہمیشہ ٹکراؤ بڑھتا ہے نہ کہ ترقی۔ اس کے مقابلے میں امریکا اور ہندوستان جیسے ملکوں میں کھلا ماحول پایا جاتا ہے۔ اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ترقی کا عمل ہمیشہ کھلے ماحول میں جاری ہوتا ہے۔ نظریاتی انتہا پسندی کے ماحول میں ترقی کا عمل جاری ہونا ممکن نہیں۔

پلولمہ(کشمیر) میں مولا ناوحیدالدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں، ماہنامہ الرسالہ اُردو اور انگریزی (The Spiritual Message) حسبِ ذیل پتے پر دستیاب ہیں:

Manzoor News Agency Pulwama, Near Jama Masjid Kashmir-192301

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page