Al-Risala · July 2006 · page 15

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵

صلاحیت کا کم تر استعمال

ایک گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ غالب کو اپنی زندگی میں کچھ نا خوشگوار تجربات پیش آئے۔ اس پر اپنے ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہُوائے انھوں نے کہا:

زندگی اپنی جب اس طرح سے گذری غالب ! ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے میں نے کہا کہ غالب زندگی کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ زندگی میں مشکلیں کا پیش آنا اس لیے تھا تا کہ غالب خدائے برتر کو یاد کریں۔ وہ خدا سے تعلق قائم کر کے اپنے اندر اعلیٰ روحانی شخصیت کی تعمیر کریں۔ مگر انھوں نے مشکلات کے مقابلے میں صرف منفی تاثر لیا۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ وہ اس کو مثبت تاثر میں ڈھال دیں۔ اسی طرح غالب کا ایک اور شعر اس طرح ہے:

رنج کا خوگر ہو انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلات مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں یہ بھی غالب کی ایک سنگین غلطی ہے۔ مشکل کا عادی ہو کر اس کو اپنے لیے قابل برداشت بنا لینا کوئی صحیح بات نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی مشکل کو اپنے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ بنا سکے۔ وہ مشکل کو چیلنج کے روپ میں لے نہ کہ عادت کے روپ میں۔ غالب کے ساتھ یہ سانحہ پیش آیا کہ ان کو اپنے زمانے میں کوئی رہبر نہیں ملا جو ان کو صحیح سوچ دے، جو ان کی فکری رہنمائی کرے، جو ان کو فکری ارتقاء کا راز بتائے۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ غالب اپنی اعلیٰ ذہانت کے با وجود صرف شاعر ہو کر رہ گئے۔ وہ سخن وری میں اپنا کمال دکھاتے رہے۔ حالاں کہ اپنی اعلیٰ ذہانت کی بنا پر وہ اس قابل تھے کہ کوئی بڑا علمی اور فکری کارنامہ انجام دے سکیں۔ وہ شاعر کے بجائے مفکر بن سکیں۔ اور پھر انسان کو فکری رہنمائی عطا کریں مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ اپنی صلاحیت کے صرف کم تر استعمال تک پہنچے، وہ لوگوں کو شاعرانہ اہتزاز سے زیادہ اور کچھ نہ دے سکے۔ کہا جاتا ہے کہ غالب نے الطاف حسین حالی سے کہا تھا کہ تم اگر شاعری نہیں کرو گے تو اپنے آپ پر ظلم کرو گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ غالب خود اپنے بارے میں یہ دریافت کریں کہ میں نے شاعری کر کے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page