صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
میڈیٹیشن (Meditation)
میڈیٹیشن ایک مستقل ڈسپلن ہے۔ میڈیٹیشن کا مقصد اسپرچول ڈیویلپمنٹ ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ انٹلیکچول ڈیویلپمنٹ کا تعلق، فارمل ایجوکیشن سے ہے، اور اس کے مقابلے میں میڈیٹیشن کا تعلق، انفارمل ایجوکیشن سے۔ میڈیٹیشن یا اسپرچول ڈسپلن کے کئی طریقے ہیں اور وہ کسی نہ کسی صورت میں قدیم زمانے سے چلے آ رہے ہیں۔
میرے تجربے کے مطابق، میڈیٹیشن یا اسپرچول ڈسپلن کے دو بڑے اسکول ہیں۔ ایک وہ جو مراقبہ (Meditation) پر مبنی ہوتا ہے۔ اور دوسرا وہ جو تفکر (Contemplation) کی بنیاد پر قائم ہے۔ پہلا اسکول مبنی بر قلب (heart-based) اسکول ہے، اور دوسرا اسکول مبنی بر ذہن (mind-based) اسکول۔ میں ذاتی طور پر تفکر والے اسکول سے تعلق رکھتا ہوں۔ اسپرچوئلٹی کا جو اسکول میڈیٹیشن یا مراقبے پر قائم ہے اس کو مسلم تاریخ میں تصوف کہا جاتا ہے۔ تصوف میں بہت سی چیزیں ویدانتاسے لی گئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تصوف اور ویدانتا میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ اگر چہ ویدانتا کا ریفرنس پوائنٹ (reference point) وید ہے اور تصوف کا ریفرنس پوائنٹ قرآن۔ لیکن اپنے مجموعی اسلوب کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔
مثلاً تصوف میں لطائف ستہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ یہ اصطلاح براہ راست طور پر ہندوسسٹم سے لی گئی ہے۔ غالباً یہ تصور پہلے ہندو سسٹم میں آیا اور اس کے بعد مسلم صوفیوں نے اپنے لیے مفید سمجھ کر اس کو اختیار کر لیا۔
لطائف ستہ کا مطلب صوفیا کے نزدیک، یہ ہے کہ انسان کے جسم میں چھ مقامات (points) ہیں۔ یہ مقامات روحانی احساسات کے مراکز ہیں۔ دھیان اور توجہ سے ان پر مسلسل زور ڈالا جائے تو یہ روحانی مقامات کھل جاتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں پوری انسانی شخصیت کو روحانی غذا ملنے لگتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues