Al-Risala · July 2006 · page 17

صلاحیت کا کم تر استعمال

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۷

اس قسم کی پریکٹس اور بعض دوسری قسم کی پریکٹس ہیں جن پر عمل کر کے آدمی اپنی شخصیت کے مادی پہلو کو دباتا ہے اور اپنی شخصیت کے روحانی پہلو کو بیدار کرتا ہے۔

میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک پیدائشی صوفی ہوں۔ میری پوری زندگی روحانی غور وفکر اور روحانی تجربات میں گزری ہے۔ میں لمبی مدت سے اس مقصد کے لیے ایک ادارہ بھی چلا رہا ہوں۔ جس کا نام یہ ہے:

Center for Peace and Spirituality (CPS International)

لیکن میری روحانیت تمام تر ذہنی بیداری پر مبنی ہے۔ میں جس صوفی ازم کو مانتا ہوں اس کو تخلیقی صوفی ازم (creativesufism) کہا جاسکتا ہے۔

میرا ماننا یہ ہے کہ مبنی بر قلب روحانیت، آدمی کو جس درجے تک پہنچاتی ہے وہ دراصل وجد (ecstasy) ہے۔ مخصوص اعمال اور اشغال کے ذریعے آدمی کے اندر ایک خاص اہتزازی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کو روایتی صوفی، روحانی یافت کا نام دیتے ہیں۔

روحانیت کے جس مسلک کو میں مانتا ہوں اس کا تعلق، تمام تر فکری عمل سے ہے۔ یہ روحانیت اس طرح آتی ہے کہ آدمی یہ سوچتا ہے کہ میں کیا ہوں۔ میرے آس پاس کی دنیا کیا ہے۔ جس نے دنیا کو بنایا ہے اس کا وہ تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے جس کے تحت، اس نے انسان کو اور بقیہ کائنات کو بنایا ہے۔

روحانیت کا یہ سفر دراصل تلاش حقیقت کے جذبے کے تحت، شروع ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایک متلاشی حق انسان سچائی کو دریافت کر لیتا ہے اور وہ خالق کے تخلیقی نقشے کو جان لیتا ہے تو اس کی زندگی ایک نئے دور میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ دور وہ ہے جس کو روحانی اصولوں پر انسانی شخصیت کی تعمیر کا دور کہا جا سکتا ہے۔

یہ سفر مکمل طور پر ایک ذہنی سفر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ دنیا میں ہر عورت اور مرد ایک تجربے سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ تجربہ منفی حوادث کا تجربہ ہے۔ چوں کہ موجودہ دنیا میں ہر آدمی آزاد

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page