صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸
ہے ۔ ہر آدمی کو موقع ہے کہ وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرے ۔ اس بنا پر بار بار یہ صورت پیش آتی ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے دُکھ پہنچتا ہے ۔ ایک انسان کو دوسرے انسان کی کسی کارروائی سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ ایک انسان کو دوسرے انسان سے کوئی ایسا ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے جو اس کو مشتعل کر دیتا ہے ۔
ایک طبقے کے نزدیک ایسے حالات میں روحانیت کو باقی رکھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی انسانی بستی سے دُور کے ماحول میں رہنا شروع کر دے جہاں کوئی چیز اس کو مشتعل کرنے والی نہ ہو ۔ اسیی نقطۂ نظر کی ترجمانی امریکہ سے چھپی ہوئی اسی کتاب میں کی گئی ہے جس کا نام یہ ہے : A monk who sold his ferrari میں جس روحانی مدرسۂ فکر کو مانتا ہوں وہ اِس سے مختلف ہے ۔ اِس دوسرے مدرسۂ فکر کے مطابق ، آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے منفی تجربات کو کنورٹ کر کے ان کو مثبت تجربے کی شکل دے ۔ وہ مادی واقعات کو روحانی تجربے میں تبدیل کر سکے ۔ وہ ایک غیر روحانی واقعے کو روحانی واقعے کی صورت دے دے ۔
یہ وہی اصول ہے جس پر انسان کے باہر کی پوری مادی دنیا قائم ہے ۔ اِس اصول کو تبدیلی کا اصول(principle of conversion) کہا جا سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر پانی کیا ہے ، دوگیسیں جو اپنے آپ میں پانی نہیں ہیں وہ مل کر ایک اور چیز کی شکل اختیار کرتی ہیں جس کو ہم سیال پانی کہتے ہیں ۔ درخت کیا ہے ، درخت دراصل غیر نباتاتی چیزوں کے کنورژن کا نتیجہ ہے ۔
اِس کی ایک مثال گائے ہے ۔ گائے اپنے جسم میں دودھ نہیں داخل کرتی ۔ بلکہ وہ اپنے جسم کے اندر گھاس داخل کرتی ہے ۔ پھر مخصوص نظام کے تحت ، یہ گھاس کنورٹ ہو کر دودھ بن جاتی ہے ۔ گویا کہ گائے ایک ایسی انڈسٹری ہے جو نان ملک کو ملک میں تبدیل کرتی ہے ۔ اِس حقیقت کو ایک اردو شاعر نے اِس طرح بیان کیا ہے :
کل جو گھاس چری تھی بن میں دودھ بنی وہ گائے کے تھن میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues