صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹
کہا جاتا ہے کہ ایک شخص ایک بزرگ سے ملا۔ وہ کسی بات پر بزرگ سے غصہ ہو گیا۔ بزرگ اُس وقت بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی اُٹھا اور اپنے پاؤں سے بزرگ کے سینے پر مار دیا۔ یہ بزرگ کے لیے ایک منفی رد عمل کا واقعہ تھا۔ مگر انھوں نے اس منفی واقعے کو ایک مثبت تجربے میں تبدیل کیا اور اس آدمی سے کہا میرے آہنی سینے سے تمہارے نرم پاؤں کو چوٹ تو نہیں لگی۔ (واضح ہو کہ یہ ایک قصہ ہے نہ کہ ایک واقعہ)۔
حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ جب کسی بندے کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس پر صبر کرلے تو خدا اس کے گوشت کو ایک اور گوشت اور اس کے خون کو ایک اور خون بنا دیتا ہے۔
یہ تبدیلی فزیکل معنوں میں نہیں ہوتی بلکہ وہ اسپرچول معنوں میں ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مصیبتوں پر صبر و شکر کا رسپانس پیش کرنا آدمی کے لیے ایک روحانی تربیت بن جاتا ہے۔ یہ اس کو منفی سوچ کے بجائے مثبت سوچ والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دشمنی کرنے والے انسان کے بجائے محبت کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو پست سطح پر جینے والے انسان کے بجائے اونچی سطح پر جینے والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہ اس کو دو طرفہ اخلاقیات (bilateral ethics) کے بجائے، یک طرفہ اخلاقیات(unilateral ethics) کا حامل بنا دیتا ہے۔
اس قسم کا روحانی انسان اعلیٰ فکری عمل کے ذریعے بنتا ہے۔ ایسا انسان بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ وہ اپنے ذہن کی ری انجینئرنگ پر راضی ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے اپنی شخصیت کی توڑ پھوڑ کرنی پڑتی ہے۔ اپنی شخصیت کو پھر سے مولڈ کرنا پڑتا ہے۔ ایک انسان وہ ہے جو سماج کے اندر بنتا ہے، دوسرا انسان وہ ہے جو اسپرچولیٹی کے کارخانے میں بن کر تیار ہوتا ہے۔ جرمن فلسفی نِٹشے نے ایک ترقی یافتہ انسان کو وجود میں لانے کا راز سیلف تھنکنگ کو بتایا تھا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ناقص سچائی ہے۔ پوری سچائی کی بات یہ ہے کہ ایک ترقی یافتہ انسان بننے کا راز اینٹی سیلف تھنکنگ میں چھپا ہوا ہے۔ اس کا سب یہ ہے کہ ہر آدمی ایک معاشرے میں جیتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues