صلاحیت کا کم تر استعمال
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
معاشرہ ہر آن اس کے ذہن کی کنڈیشننگ کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ مائنڈ بن جاتا ہے۔ امریکی عالم نفسیات جے۔ بی۔ واٹسن (J.B.Watson) نے غلطی سے اسی کنڈیشنڈ انسان کو اصل انسان سمجھ لیا۔ حالاں کہ وہ ایک مصنوعی انسان ہوتا ہے نہ کہ اصل انسان۔ اسپرپچول ڈیولپمنٹ کا عمل دراصل اسی کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ سے شروع ہوتا ہے۔ کوئی شخص جتنا زیادہ اپنے مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ اسپر پچول ڈیولپمنٹ کا مقصد حاصل کرے گا۔ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کے بغیر روحانی ترقی ممکن ہی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان پیدائشی طور پر ایک اسپر پچول انسان ہی کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر یا مسٹر اسپر پچول ہوتا ہے۔ لیکن پیدا ہونے کے بعد وہ جس سوسائٹی میں رہتا ہے اس کے مطابق، اس کی کنڈیشننگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس بعد کی کنڈیشننگ کو ختم کر کے اپنے آپ کو دوبارہ اپنی پیدائشی حالت یا فطری حالت کی طرف لے جانے ہی کا دوسرا نام اسپر پچولیٹی ہے۔ اسپر پچول سائنس دراصل مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ ڈی کنڈیشننگ نہیں تو اسپر پچولیٹی بھی نہیں۔
اس اعتبار سے انسانی دماغ کی مثال پیاز جیسی ہے۔ پیاز کے بیچ میں ابتدا ء اس کا ایک چھوٹا سا مغز ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس مغز کے اوپر پرت چڑھنے لگتی ہے۔ ایک کے بعد دوسری پرت دوسری کے بعد تیسری پرت، تیسری کے بعد چوتھی پرت۔ پرت چڑھنے کا یہ عمل جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اندر کا مغز پوری طرح ان خارجی پرتوں کے اندر ڈھک جاتا ہے۔ اب بظاہر صرف پرت دکھائی دیتی ہے۔ اندر کا مغز دکھائی نہیں دیتا۔
پیاز کے اندر کے مغز کو حاصل کرنے کے لیے اس کے اوپر کی تمام پرتیں ہٹانی پڑتی ہیں۔ اسی طرح نیچر والے انسان کو دوبارہ سامنے لانے کے لیے اس کی کنڈیشننگ کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ کنڈیشننگ کا یہ عمل ویسا ہی ہے جیسا کہ پیاز کے اوپر کی پرت کو ہٹانے کا عمل ۔ اسپر پچول سائنس کا پورا معاملہ پیاز کی اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پیاز گو یا اسپر پچولیٹی کے معاملے کا ایک مادی مظاہرہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues