Al-Risala · July 2006 · page 45

What is religion?

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۵

کیسے قائم ہو۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بھائی چارہ عملاً قائم ہے۔ اگر بھائی چارہ نہ ہو تو ملک میں بحران پیدا ہو جائے۔ آپ کسی مسلمان سے اس کے ہندو پڑوسی کے بارے میں پوچھئے تو وہ اس کے بارے میں اچھی رائے دے گا۔ اسی طرح آپ کسی ہندو سے اس کے مسلمان پڑوسی کے متعلق پوچھئے تو وہ اس کے بارے میں اچھی رائے دے گا۔ یہ مسئلہ زیادہ تر میڈیا کا پیدا کردہ ہے۔ میڈیا اپنے مزاج کے مطابق، سنسنی خیز خبروں کو منتخب کر کے ان کو نمایاں کرتا ہے۔ مگر یہ ہندوستانی سماج کی صحیح تصویر نہیں۔ بعض ناخوشگوار واقعات ضرور ہوتے ہیں لیکن وہ ہر جگہ ہوتے ہیں حتی کہ مسلم ملکوں میں بھی۔ ان کی بنیاد پر کوئی عمومی رائے نہیں بنائی جاسکتی۔ ۹۔ برٹش صحافی سر مارک ٹلی (Mark Tully) نے ۲ اپریل ۲۰۰۶ کو صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ ریلیجس انڈر اسٹینڈنگ پر انگریزی میں ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اس موضوع پر اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے۔ انھیں تفصیل کے ساتھ قرآن اور حدیث کی تعلیمات بتائی گئیں۔ انھیں بتایا گیا کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ہر حال میں معتدل تعلقات قائم رکھے جائیں، اور پر امن ماحول کو برقرار رکھا جائے۔ کیوں کہ امن کے بغیر کوئی بھی تعمیری کام نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک مذہبی اختلاف کی بات ہے، اس معاملے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اپنے مذہب پر پوری طرح قائم رہتے ہوئے دوسروں کے مذہب کا پورا احترام کیا جائے۔ ۱۰۔ ہمدرد پبلک اسکول (نئی دہلی) میں ۱۵ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس کا انعقاد اسکول کے ہال میں کیا گیا۔ تمام طلبا اور اساتذہ اس میں شریک ہوئے۔ جناب سید حامد صاحب (بانی اسکول) بھی اس میں موجود تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور سیرت رسول کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ تقریر میں منتخب احادیث کی روشنی میں بتایا گیا کہ زندگی کی تعمیر کے لیے پیغمبر اسلام نے کیا رہنما اصول دیے ہیں۔ یہ تقریر چالیس منٹ تک ہوئی ۔ اس موقع پر اسکول کے اساتذہ اور پرنسپل سے ملاقات ہوئی۔ طلبا اور اساتذہ نے خصوصی دل چسپی کا اظہار کیا۔ اس پروگرام میں سی پی ایس کی ٹیم کے بھی کچھ افراد شریک ہوئے۔

۱۱۔ ہمدرد یونیورسٹی (نئی دہلی) میں ۱۴؍ اپریل ۲۰۰۶ کو سیرت النبی کے عنوان کے تحت ایک پروگرام ہوا۔ اس میں ڈاکٹر موسی رضا وغیرہ نے تقریر کی۔ صدر اسلامی مرکز کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ بھی اس میں شریک ہوئے اور سیرت رسول کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر میں بتایا گیا کہ اسلام ہمیشہ امن کے حالات پسند کرتا ہے۔ کیوں کہ اسلام کا جو مشن ہے وہ صرف امن کے حالات میں حاصل ہوسکتا ہے۔ اسلام کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو توحید کا پیغام پہنچایا جائے۔ لوگوں کے اندر جنت اور جہنم کا شعور پیدا کیا جائے۔ لوگوں کو خدا کے تخلیقی نقشے سے باخبر کیا جائے۔ یہ پروگرام یونیورسٹی کے ایک کنونشن سنٹر میں ہوا۔ اس موقع پر دوسرے حضرات کے علاوہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ڈاکٹر اوصاف علی بھی وہاں موجود تھے۔ اس موقع پرسی پی ایس کی ٹیم کے افراد شریک ہوئے۔ انھوں نے حاضرین کے درمیان دعوتی پمفلٹ اور بروشر تقسیم کیے۔ لوگوں نے نہایت شوق کے ساتھ ان کو پڑھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page