Al-Risala · July 2006 · page 46

What is religion?

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۶، صفحہ ۴۶

۱۲۔ رابعہ گرلس پبلک اسکول (نئی دہلی) میں ۱۹ اپریل ۲۰۰۶ کو سیرت النبی کے موضوع پر ایک جلسہ ہوا۔ اس میں تین مختلف اسکولوں کے ٹیچر اور اسٹوڈنٹ شریک ہوئے۔ شہر کے کچھ ممتاز افراد بھی اس میں شریک ہوئے۔ یہ جلسہ صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے رکھا گیا تھا۔ انھوں نے وہاں موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی ۔ آخر میں سوال و جواب ہوا۔ تقریر سننے کے بعد کئی ہندو اور مسلم ٹیچروں نے کہا کہ آج ہمیں اسلام اور پیغمبر اسلام کا صحیح تعارف حاصل ہوا۔ اسکول کے مینیجر نے کہا کہ آپ کی تقریر عصری اسلوب میں ہونے کے ساتھ ساتھ بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے یکساں طور پر بڑی مفید اور قابل فہم تھی۔

۱۳۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ امریکا کی ڈیوک یونیورسٹی (درہم) میں پروفیسر ہیں۔ ان کا تعلق ، ڈپارٹمنٹ آف ریلیجس اسٹڈیز سے ہے۔ وہ ۱۹ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک کیمرہ مین کے ساتھ دفتر میں آئے، اور صدر اسلامی مرکز کا ایک تفصیلی ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ وہ یونیورسٹی کے ایک پروجیکٹ کے تحت، ایک کتاب لکھ رہے ہیں جس کا نام یہ ہے : Inside Madrasas ان کے سوالات کا تعلق مدرسے سے، مسلمانوں کے مسائل سے اور اسلام اور عصر حاضر سے تھا۔ یہ پورا انٹرویو انگریزی میں تھا۔ گفتگو کے دوران ایک بات یہ کہی گئی کہ مسلم مسائل پر تمام بولنے اور لکھنے والے دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کو ہر حال میں درست ثابت کرنا ۔ یہ طریقہ سخت مہلک ہے۔ اس سے آپ کو یہ فائدہ تو مل سکتا ہے کہ آپ کو مسلمانوں کے درمیان مقبولیت حاصل ہوجائے۔ مگر اس کا یہ عظیم نقصان ہے کہ وہ مسلمانوں کے اندر احتساب کا ذہن نہیں پیدا کرتا۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر re-assesment کی تحریک اُٹھے۔ مگر دفاعی یا وکیلانہ انداز اس عمل کو زندہ کرنے میں مستقل رکاوٹ ہے۔

۱۴۔ نئی دہلی کے سائی انٹرنیشنل سنٹر (لودی روڈ) میں ۲۷ اپریل ۲۰۰۶ کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام میں مختلف سینک اسکولوں کے پرنسپل شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس شرکت کی۔ ان کو یہاں اس موضوع پر بولنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا کہ اسلام میں بیسک ہیومن ویلو ز کا تصور کیا ہے۔ انھوں نے آدھ گھنٹہ اس موضوع پر تقریر کی ۔ اس کے بعد پندرہ منٹ تک سوال اور جواب ہوا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اسلام حسب ذیل ہیومن ویلو ز بتائے:

Peace, Love, Truth, Non-violence, Tolerance, Good conduct. اس پروگرام میں سی پی ایس (انٹرنیشنل) کی ٹیم کے افراد بھی شریک ہوئے۔ تقریر کے بعد انھوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کر کے اُن سے اسلام کے موضوع پر باتیں کیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کے درمیان اسلامی پمفلٹ اور اسلامی بروشر بھی تقسیم کیے گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2006 All issues

Printed page