حیدر آباد کا سفر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۳
عمل ہمیشہ اُن لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو صاحب وسائل ہیں ۔ بے وسائل افراد کسی بھی نتیجہ خیز کام کا آغاز نہیں کرسکتے۔ ترقیاتی عمل میں وسائل رکھنے والے افراد ابتدائی محرّک (prime mover) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ابتدائی محرّک کے بغیر کبھی کوئی نتیجہ خیز حرکت وجود میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اس حقیقت کا ایک کھلا ہوا نمونہ حیدر آباد (آندھرا پردیش) میں نظر آتا ہے۔ پچھلی حکومت کے زمانے میں یہاں زبردست ترقیاتی کام ہو رہا تھا۔ اس زمانے میں حیدر آباد آیا تو میں نے پایا کہ حیدر آباد شہر میں ہر طرف ترقی کی جھلکیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ مگر ترقی کا یہ عمل فطری طور پر شہروں سے شروع ہوا تھا، اور دھیرے دھیرے وہ گاؤں تک پہنچ رہا تھا۔ مگر اس عمل کی تکمیل سے پہلے الیکشن کا وقت آگیا۔ اب ’’سماج وادی‘‘ طبقے کے لوگ حرکت میں آگئے۔ انھوں نے دھوم کے ساتھ یہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ موجودہ حکومت سرمایہ داروں کو خوش کرنے کے لیے شہروں کو ترقی دے رہی ہے۔ جب کہ گاؤں کے لوگ ابھی تک اس ترقی میں حصہ پانے سے محروم ہیں۔ یہ بات اتنی پھیلائی گئی کہ گاؤں میں رہنے والے عوام کا ذہن حکومت کے بارے میں منفی ذہن بن گیا۔ چنانچہ الیکشن میں یہ ہوا کہ شہر کے لوگوں نے تو حکمراں پارٹی کو ووٹ دیا لیکن گاؤں کے لوگوں کی اکثریت نے اپنے ووٹ کو حکمراں پارٹی کے خلاف استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکمراں پارٹی ہار گئی۔ اور نتیجہ ترقی کا ہوتا ہوا عمل رُک گیا۔
میں نے کہا کہ حقیقی ترقیاتی عمل کے لیے دو چیزیں ناگُریز طور پر ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اربابِ کار کو یہ معلوم ہو کہ ترقی کا عمل ہمیشہ ایک ابتدائی مقام سے شروع ہوتا ہے۔ پورے پورے سماج کو بیک وقت اچانک ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ کوئی ایکسپلا نیشن کی بات نہیں ہے، یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ جو لوگ اس اصول کو نہ جانیں وہ اپنے خود ساختہ نظریے کے تحت، صرف تخریب کاری کریں گے، وہ کسی حقیقی تعمیر کو وجود میں نہیں لاسکتے۔
دوسری ذمے داری اُن لوگوں کی ہے جن کو موجودہ سیاسی اصطلاح میں حزبِ مخالف (opposition group) کہا جاتا ہے۔ ان لوگوں کو سنجیدگی کا ثبوت دینا چاہیے۔ ملک کے مفاد کے
‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues