Read

Al-Risala, August 2006

  1. p. 49 پختگی نام ہے اس استعداد کا کہ کسی تلخی
  2. p. 50 بسم الله الرحمن الرحيم Al-Risāla جاری کردہ 1976 اردو
  3. p. 2 حیدر آباد کا سفر
  4. p. 3 عمل ہمیشہ اُن لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو
  5. p. 4 لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ حقیقت
  6. p. 5 Mine was the case of missed opportunity. · Against the Current.
  7. p. 6 مندر میں بم بلاسٹ ہوا۔ میڈیا میں یہ خبر
  8. p. 7 ایک دوسرے پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ مثلاً ابن
  9. p. 8 جہازوں میں پرواز کے دوران اکثر ایسا ہوتا ہے۔
  10. p. 9 Simple living, high thinking.
  11. p. 10 ہلاکت میں ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ میرے تجربے
  12. p. 11 If you have a good excuse don't use it.
  13. p. 12 مراد جہاد بالقرآن ہے۔ یہاں جہاد بالقرآن کو جہاد
  14. p. 13 کرتے رہیں ۔ انشاء اللہ آپ کا ذہن کھل
  15. p. 14 زندگی میں انھوں نے اس نظریے کو مکمل طور
  16. p. 15 طریق دعوت عام طور پر یہ تھا کہ قرآن
  17. p. 16 نیت پر شبہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ (صفحہ:
  18. p. 17 دیر تک دینی مباحث پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک
  19. p. 18 مزاج آگیا۔ حالاں کہ حاکمانہ دور کی حیثیت ماڈل
  20. p. 19 کرنے کے ہم معنی ہے۔ سادگی اور بامقصد زندگی
  21. p. 20 لیکن فطرت کی تقسیم کے مطابق ، عورت اور
  22. p. 21 ایک ساتھی سمجھتے ہیں، وہ اس کو ذہنی رفیق
  23. p. 22 قرآن کے بیان سے مطابقت کر رہی ہو تو
  24. p. 23 اِس کے بعد لوگوں کو یہ کرنا ہے کہ
  25. p. 24 پہنچتا۔ سیمنار کے مفید بننے کے لیے ضروری ہے
  26. p. 25 لفظ استعمال کیا جائے جس کو سن کر فوراً
  27. p. 26 رکھے۔ دعوہ ورک کوئی قومی ورک نہیں۔ دعوہ ورک
  28. p. 27 قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اُن سے ایسے
  29. p. 28 Co-existence in Islam
  30. p. 29 یونیورسل ماڈل آف کو اگزسٹنس کہا جاسکتا ہے۔ یہی
  31. p. 30 کے مقامی لیڈر ہیں۔ انھوں نے اپنی تقریر میں
  32. p. 31 کا ایڈوکیٹ ہوں نہ کہ مسلمانوں کا۔ آپ لوگ
  33. p. 32 یہ سارے ملک پر امن ملک کہے جاسکتے ہیں۔
  34. p. 33 کہا گیا ہے۔ مجھے تعجب ہے کہ یہ لوگ
  35. p. 34 طرف یہ آیا ہے کہ: سنریہم آیاتنا فی الآفاق
  36. p. 35 ایڈریس کرنے والا ہو۔ مذکورہ قسم کا کلام سادہ
  37. p. 36 جس میں تقریباً ڈھائی تین سو مسلمان شہید ہو
  38. p. 37 11 مارچ ۲۰۰۶ کو صبح ۱۰ بجے حبیب بھائی
  39. p. 38 ایسے لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان ہیں لیکن اندر
  40. p. 39 انھوں نے کہا کہ — میں ریٹائر ملازمت سے
  41. p. 40 اسی لیے ایک صحابی نے کہا: نُھیناعن کثرۃ السؤال
  42. p. 41 (الکہف ۵۲) ان کا کہنا تھا کہ جب قرآن
  43. p. 42 اسلام سے کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے اب
  44. p. 43 سرکاری اسکولوں میں قرآن حکیم کے درس و تدریس
  45. p. 44 کی آزادی کا مطلب حد کو پار کرنا اور
  46. p. 45 ایک تنومند استاد مخصوص انداز سے گاؤ تکیے لگائے
  47. p. 46 Al-Risala
Printed page