Al-Risala · August 2006 · page 4

حیدر آباد کا سفر

الرسالہ، اگست ۲۰۰۶، صفحہ ۴

لیے اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لیں اور ترقی کے عمل میں غیر ضروری رُکاوٹ نہ ڈالیں۔

یہ سفر ائیر دکن (Air Deccan) کی فلائٹ کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے حیدر آباد تک یہ دو گھنٹے کا سفر تھا۔ سفر کے دوران مطالعے کے لیے ائیر دکن کا فلائٹ میگزین (Simplifly) کا شمارہ مارچ ۲۰۰۶ موجود تھا۔ اس میں کئی چیزیں قابلِ مطالعہ تھیں۔ میگزین کے آغاز میں کمپنی کے ڈائریکٹر کی طرف سے ایک میسج تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ائیر دکن ایک پیوپل فرینڈلی ائر لائن (people-friendly airline) ہے۔ اس کو میں نے پڑھا تو اس میں مجھے زندگی کا ایک اصول نظر آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیوپل فرینڈلی کردار کسی ائر کمپنی کا فارمولا نہیں، وہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ جو شخص بھی اس دنیا میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے اس کو وہی کردار اپنانا ہوگا جس کو پیوپل فرینڈلی کردار کہا جاتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اس دنیا میں کوئی حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، یعنی سب کے لیے اپنے دل میں محبت کا جذبہ ہونا۔

میگزین کے ایک صفحے پر بڑے بڑے لوگوں کے بہت سے اقوال درج تھے۔ یہ اقوال ، وقت کی قدر و قیمت (value of time) کے بارے میں تھے۔ ایک قول یہ تھا کہ — ایک شخص جو اپنے وقت کا ایک گھنٹہ بھی ضائع کرتا ہے اس نے زندگی کی قدر و قیمت کو دریافت نہیں کیا: A man who dares to waste one hour of life has not discovered the value of life. (Charles Darwin)

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر دو چیزوں کی قدر و قیمت نہیں جانتے۔ ایک، وقت اور دوسرے، سادگی۔ حالاں کہ یہ دونوں چیزیں کسی بھی میدان میں حقیقی ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ جو آدمی وقت کی اہمیت کو نہیں جانے گا وہ اپنی عمر کا بڑا حصہ ضائع کر دے گا۔ اسی طرح جو آدمی سادگی کی اہمیت کو نہ جانے وہ اپنے وسائل کا بڑا حصہ بے فائدہ طور پر کھو دے گا۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے پاس بہت تھوڑا وقت ہے اور اسی طرح بہت تھوڑے وسائل۔ ایسی

‹ Previous page Next page › Contents of August 2006 All issues

Printed page