Al-Risala · January 2006 · page 37

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷

گوتم بدھ دراصل ذو الکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے“۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے“۔…… میرے نزدیک قصہ یوں ہے کہ گوتم بدھ کا تعلق کپل وستو سے تھا۔ دہلی یا دلی کی نسبت سے دہلوی، دلی والی یا دلی والا بولنا سمجھنا عام ہے اسی طرح کپل والا کو ذو الکفل کا مترادف سمجھ کر گوتم بدھ کی طرف بعض علماء ومفسرین کا ذہن گیا ہے۔ دوسرے گوتم بدھ کی سیرت اور تعلیمات پر نگاہ رکھتے ہوئے مولا نا گیلانی (مؤلف سوانح قاسمی)”النبی الخاتم‘‘ میں یہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”اللہ پاک نے طلوع اسلام سے پہلے ایشیا کے بہت بڑے خطے کو مشرکانہ افکار سے پاک کرنے اور توحید کا پیغام عام کرنے کے لیے گوتم بدھ سے کام لیا تا کہ اسلام کے لیے مستقبل کی زمین ہموار ہو رہے اور تاریخی اعتبار سے ایسا ہی ہوا“ اس لیے استنباطاً یا قیاساً انھیں (گوتم بدھ کو) اس زمرے میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جاتا ہے جس کی طرف آپ نے مذکورہ بالا صفحے پر اشارہ فرماتے ہوئے اسے ناقابل فہم قرار دیا ہے۔ براہ مہربانی اس کی وضاحت کریں۔ (محمد رضوان احمد خاں، شیخ پورہ، بہار)

جواب

جو لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر بتاتے ہیں ان کے پاس اس کے لیے کوئی تاریخی دلیل موجود نہیں۔ ذوالکفل سے دور کی لفظی مشابہت کوئی قابل قبول ثبوت نہیں ہو سکتی۔ مزید یہ کہ گوتم بُدھ کے یہاں صرف انسانی اخلاقیات کی تعلیم ہے۔ خدا کے وجود یا توحید کا تصور ان کے یہاں موجود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں گوتم بدھ کو پیغمبر بنانا محض ایک لفظی نکتہ ہے، نہ کہ کوئی دلیل۔

اس قسم کی دلیل کو اگر معتبر مانا جائے تو یہ کوئی سادہ بات نہ ہوگی۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ ایک اصول استدلال کو آپ اپنے لیے استعمال کریں اور جب اس اصول استدلال کو لے کر دوسرا شخص اپنے حق میں کوئی دلیل قائم کرے تو اس کو ماننے سے انکار کر دیں۔ غالباً آپ کو معلوم ہوگا کہ لفظی مشابہت کے اس طریقہ استدلال کو لے کر لوگوں نے ہر غلط عقیدے کو قرآن میں دریافت کر لیا ہے اور مزید اس قسم کی دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page