Al-Risala · January 2006 · page 38

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸

پوجیہ ور مولانا صاحب !

کتاب ’’تذکرہ الا اولیاء‘‘ میں حصہ سوال آداب و تسلیمات :دیباچہ بستامی کا جوان، حرتر رٹھا (۳۱) میں آیا ہے کتاب "تذکرۃ الاولیاء" میں حضرت بایزید بسطامی کا جیون چرتر پڑھا۔ اس میں آیا ہے: "کسی نے آپ سے پوچھا کہ آپ رات کو نماز کیوں نہیں پڑھتے؟ فرمایا کہ مجھے عالِمِ ملکوت (یعنی عالِم ارواح) کے چکر لگانے سے فرصت نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ لوگوں کی اعانت کرتا رہتا ہوں۔ ‘‘ اس جواب سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ آپ عالِم ملکوت کے چکر رات بھر کیوں لگاتے رہتے تھے؟ کر پا کر کے اس کو سمجھانے کی مہربانی کریں۔ اس کی پرارتھنا ہے۔ گسٹ کے لیے چھما چاہتا ہوں۔ سب کو سادَر سلام، پُر نام۔

بھائی رام دیو جی!

آپ کا کرپا پاتر رام دیو GH-4/276, Paschim Vihar New Delhi-110063 جواب آداب و تسلیمات آپ کا خط مورخہ ۱۴ جولائی ۲۰۰۵ ملا۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ کو روحانیت کے سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے۔ خدا اس معاملے میں آپ کی بھر پور مدد کرے۔

میں بھی روحانیت کا ایک طالب علم ہوں۔ اگر چہ میں کوئی پروفیشنل صوفی نہیں ہوں۔ مگر روحانیت میری فطرت میں بسی ہوئی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ میں روحانیت میں جیتا ہوں اور روحانیت میں صبح و شام کرتا ہوں۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ روحانیت کے نام پر ایک اور چیز کو لیے ہوئے ہیں۔ وہ روحانیت کے نام سے روحانیت کی صرف ایک کمتر صورت (reduced form) کو جانتے ہیں۔ تذکرۃ الاولیاء اور اس طرح کی دوسری تمام کتابیں روحانیت کو جاننے کا صرف ناقص ذریعہ ہیں۔ یہ کتابیں دو قسم کی غیر متعلق باتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ فرضی تمثیلات، اور فرضی کہانیاں۔ آپ یہ دُنیا نہیں ہے دُروس! اِس دَر کا سَبا ق اسں ہیں ۔ اس کی باتیں دُور اس ہیں ، پاپ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page