جنت کس کے لیے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
جنت کس کے لیے
ایک تعلیم یافتہ غیرمسلم نے کہا کہ میں لوگوں کے درمیان اچھے اخلاق کے ساتھ رہتا ہوں، کبھی کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ میری کوشش یہ رہتی ہے کہ میں اپنے سماج کا اچھا ممبر بنوں۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ موت کے بعد مجھ کو جنت ملے گی ۔ جب میں ایک اچھا انسان ہوں تو خدا مجھے جہنم میں کیوں ڈال دے گا۔ میں نے کہا کہ صرف اچھے اخلاق کی بنا پر کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔ جنت کیا ہے، جنت دراصل خدا کے پڑوس کا نام ہے۔ خدا اپنے پڑوس میں صرف ان لوگوں کو رہنے کی جگہ دے گا جو خدائی اخلاقیات کے حامل ہوں، صرف سماجی اخلاقیات کی بنا پر کوئی شخص جنت میں داخلے کا مستحق نہیں بن سکتا۔ اصل یہ ہے کہ ایک اخلاق وہ ہے جو انسان بمقابلہ انسان (man versus man) کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے، اور دوسرا اخلاق وہ ہے جو انسان بمقابلہ خدا (man versus God) کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔ دونوں قسم کے اخلاق کا محرک بالکل الگ الگ ہے۔ انسان کی نسبت سے جو اخلاق کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے وہ دراصل سماجی اخلاق ہوتا ہے۔ اس کا محرک یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنے سماج کے اندر بے ضرر زندگی حاصل کر سکے۔ وہ لوگوں کی نظر میں اچھا بنا ہوا ہو۔ لوگ اس کو سماج کا اچھا ممبر سمجھیں۔ اس کے مقابلے میں خدا کی نسبت سے جو اخلاق پیدا ہوتا ہے اس کا سر چشمہ دراصل معرفت خداوندی ہوتا ہے۔ ایک آدمی جب اپنے خالق کو دریافت کرتا ہے، تو یہ دریافت اس کے ذہن کو بالکل بدل دیتی ہے۔ اس کی ربانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کے اندر وہ تمام صفات پیدا ہو جاتی ہیں جن کو اعلیٰ انسانی اخلاق کہا جاتا ہے۔
انسان کی نسبت سے جو اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں وہ سماجی محرک کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے سماج سے رشتہ ٹوٹنے کے بعد ان کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسا اخلاق وقتی مقصد کے لیے ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ ختم بھی ہو جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں خدا کی نسبت سے جو اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں وہ ابدی محرک کے تحت پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا رشتہ خدا کی ابدیت کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues