جنت کس کے لیے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
ہے ۔ اس لیے ایسا انسان اس قابل ٹھہرتا ہے کہ وہ خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائے۔ خدائی اخلاقیات دراصل خدا کی معرفت سے پیدا ہونے والے کردار کا نام ہے۔ مثلاً خدا خالق ہونے کی حیثیت سے اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے۔ اس لیے ایسا انسان دوسرے انسانوں سے محبت کرنے لگتا ہے۔ خدا یوم الحساب کا جج ہے۔ یہ عقیدہ ایسے آدمی کے اندر شدید محاسبہ (accountability) کا احساس پیدا کر دیتا ہے۔ وہ ہر ایسے قول یا فعل سے بچنے لگتا ہے جس میں یہ اندیشہ ہو کہ خدا اس کو پکڑے گا اور اس کو سخت سزا دے گا۔ ایسے انسان کا ذہن یہ بن جاتا ہے کہ دینے والا بھی خدا ہے اور چھیننے والا بھی خدا۔ یہ احساس اس کے اندر کبر کی نفسیات کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے۔ کسی انسان کو کم سمجھنا اس کے لیے ایک ایسی روش بن جاتی ہے جس کا وہ تحمل نہ کر سکے۔ پہلی قسم کے انسان کا اخلاق آزادانہ اخلاق ہوتا ہے، جب کہ دوسری قسم کے انسان کا اخلاق خدا کے ساتھ عبدیت کا تعلق قائم کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ پہلی قسم کے انسان کا اخلاق دُنیوی اخلاق ہوتا ہے، اور دوسری قسم کے انسان کا اخلاق جنتی اخلاق۔ سماجی اخلاق ہمیشہ ایک حد پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے۔ جب کہ خدائی اخلاق کا معاملہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی کبھی اور کسی حال میں کوئی حد نہیں آتی۔
ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جنت کی قیمت خدا کی معرفت ہے۔ معرفت خداوندی سے کم تر درجے کی کوئی چیز جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنت کی تصغیر ہے کہ معرفت اعلیٰ سے کم تر کسی چیز کو جنت کی قیمت سمجھا جائے۔
معرفت کیا ہے، معرفت (realization) دراصل خدا کی دریافت (discovery) کا نام ہے۔ یہ نہ دکھائی دینے والے خدا کو بصیرت کی آنکھ سے دیکھ لینا ہے۔ یہ اعلیٰ شعور کا ایک ایسا درجہ ہے جب کہ آدمی کے لیے خدا کے سوا ہر چیز غیر اہم بن جائے، جب کہ خدا کے سوا ہر چیز اپنی کشش کھو دے۔ جب کہ خدا ہی انسان کا سب سے بڑا کنسَرن (concern) بن جائے۔
یہ معرفت کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت کے اوپر شبہات (doubts) کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues