Al-Risala · September 2006 · page 12

جنت کس کے لیے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲

ہزاروں پردے پڑے ہوئے ہیں۔ جو آدمی شبہات کے ان پردوں کو پھاڑ سکے وہی اُس یقین کے درجے تک پہنچتا ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ معرفت کے متلاشی کو بہرحال اس امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ جو آدمی شبہات کے پردے کو پھاڑنے کے اس امتحان میں پورا اُترے وہی معرفتِ خداوندی کا تجربہ کر سکتا ہے۔

حصولِ معرفت کی حقیقی پہچان صرف ایک ہے، اور وہ داخلی ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی خدا کو اس طرح پائے کہ وہ کامل طور پر اس کی فطرت کی آواز بن جائے۔ آدمی پیدائشی طور پر ایک متلاشی انسان ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر حقیقتِ اعلیٰ کو دریافت کرنا چاہتا ہے۔ معرفت اسی تلاش کا جواب ہے۔ ایک بچہ اپنی کی تلاش میں ہو تو اپنی ماں کو پا کر وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اُس سے لپٹ جاتا ہے۔ یہی معاملہ صاحبِ معرفت کا ہے۔ جب کسی انسان کو حقیقی معنوں میں خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کو پانے کے بعد اس طرح کامل طور پر اپنے خدا کے ساتھ جُڑ جاتا ہے جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنی ماں کے ساتھ۔ معرفت کے معاملے میں کوئی بھی عذر (excuse) قابلِ قبول نہیں۔ جو آدمی موجودہ دنیا میں معرفت کے حصول میں اندھا ثابت ہو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ معرفت جب اپنے دلائل اور اپنی نشانیوں کے ساتھ سامنے آتی ہے تو کسی بینا انسان کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو نہ پہچاننے۔ اس کے وجود میں چھپا ہوا احساسِ معرفت کافی ہو جاتا ہے کہ وہ اس کو پہچاننے سے محروم نہ رہے۔

ایک بچے کی ماں غائب ہو اور پھر وہ اس کے سامنے آ جائے تو یہ ناممکن ہوتا ہے کہ بچہ اپنی ماں کو پہچاننے میں ناکام رہ جائے۔ بچے کے اندر ماں کی معرفت اتنی زیادہ قوی ہوتی ہے کہ اس کے لیے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ اس کی ماں اس کے سامنے آ جائے اور وہ اس کو پہچانے سے قاصر رہے۔ اسی طرح جب دلائل اور نشانیوں کے ذریعے خدا کی معرفت کسی آدمی کے سامنے کھل جائے تو وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ اس کو نہ پہچانے۔ جو بچہ اپنی ماں کو نہ پہچانے وہ بلاشبہ اندھا ہے، وہ اپنی باہر کی آنکھ سے بھی محروم ہے اور اپنی اندر کی آنکھ سے بھی محروم۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page