Al-Risala · January 2006 · page 39

آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

نے ایک صوفی کے ’’ملکوتی سفر‘‘ کے بارے میں جو بات لکھی ہے، وہ محض ایک بے بنیاد کہانی ہے۔ اِس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔

اصل یہ ہے کہ پرنٹنگ پریس اور جدید میڈیا کے زمانے سے پہلے ہر جگہ قصہ گو (storytellers) ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ انوکھی کہانیاں بنا بنا کر لوگوں کو سنایا کرتے تھے۔ یہ گویا قدیم زمانے میں تفریح (entertainment) کا ایک سادہ ذریعہ تھا۔ بعد کو یہ کہانیاں لکھ لکھ کر کتابوں میں جمع ہوگئیں ۔ پھر وقت گزرنے کے بعد وہ مقدس ہو گئیں۔ مسیحی روایات میں ان کہانیوں کو ’’مقدس فریب‘‘ (pious fraud) کہا جاتا ہے۔ اور اسلام میں ان کو ’’موضوعات‘‘ کہا گیا ہے۔ ہندو کلچر میں بھی اس قسم کی بے اصل کہانیاں بھری ہوئی ہیں جن کو ’’دیومالائی کہانیاں‘‘ کہا جاتا ہے۔ ہم سینٹر فار پیس اینڈ اسپرچوئلٹی (CPS) کے تحت صحیح روحانیت کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس روحانیت کو آپ سائنٹفک روحانیت (Scientific spirituality) کہہ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم نے بہت سی کتابیں شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ ہر ہفتے ہمارے یہاں اسپرچول کلاس نیز دوسرے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہماری اس تحریک کے ساتھ بہت سے لوگ جڑے ہوئے ہیں۔ خدا کے فضل سے روحانی احیاء کا یہ کام مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page