Al-Risala · September 2006 · page 13

شناخت کا مسئلہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

شناخت کا مسئلہ

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ ان سے میرے ساتھی نے CPS International کا تعارف کرایا اور کہا کہ اس تنظیم کے تحت، ہم غیر مسلموں میں دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں نے الرسالہ میں اس کا ذکر پڑھا ہے، مگر میں نے یہ بھی سنا ہے کہ جو لوگ اسلام کو اپناتے ہیں آپ ان کا نام نہیں بدلتے۔ ان کو اسلامی لباس اور اسلامی وضع قطع اختیار کرنے کے لیے نہیں کہتے۔ ان کے قدیم تشخص کو بدل کر انھیں اسلامی تشخص پر لانے کی کوشش نہیں کرتے۔ آپ کا یہ طریقہ درست نہیں۔ ایسا آپ کیوں کر رہے ہیں۔

میں نے کہا کہ مذکورہ تشخص (identity) نہ صرف غیر ضروری ہے بلکہ وہ ایک نقصان کی بات ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں کی آئی ڈیٹی کو بدل کر آپ یہ کرتے ہیں کہ ان کا دعوتی رول ختم کر دیتے ہیں۔ اگر ایسا ہو کہ اس کا دل اسلام کی صداقت پر پوری طرح مطمئن ہو اور وہ اپنا نام نہ بدلے تو وہ اپنی سوسائٹی سے کٹا نہیں۔ اس طرح وہ اس قابل رہتا ہے کہ وہ اپنی سوسائٹی کے لوگوں میں اسلام کی دعوت کو پھیلا سکے۔ لیکن جب وہ اپنا نام اور اپنا ظاہری تشخص بدل لے تو اچانک ہی وہ اپنی سوسائٹی سے کٹ جاتا ہے۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ داعی کا رول ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

اس معاملے میں قرآن کے اندر واضح رہنمائی موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر ۴۰ میں حضرت موسیٰ کے ہم زمانہ مصری حکمراں فرعون کا ذکر ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت سننے کے بعد اس نے ارادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ کو قتل کر دے۔ اس وقت فرعون کے دربار کے ایک ممبر نے مداخلت کی اور اس طرح بادشاہ کو قتل کے اس ارادے سے روک دیا، اور حضرت موسیٰ کو یہ موقع مل گیا کہ وہ حکومت کے تشدد سے محفوظ رہ کر اپنا پر امن دعوتی کام جاری رکھ سکیں۔

دربار فرعون کے اس شخص کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں : وقال رجل مؤمن

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page