دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۰
دوسری آیت
"جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی جاہلیت کی حمیت۔ پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ " (الفتح: ۲۶)
پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے بچائیں کہ وہ دوسروں کے معبودوں یا اُن کے مقدس شعائروں کو بُرا بھلا کہیں اور اس کے نتیجے میں ایسا ہو کہ وہ ردِ عمل کا شکار ہو جائیں اور جواب میں مسلمانوں کے دین اور شعائر کو بُرا بھلا کہنے لگیں۔ اس آیت میں واضح طور پر مسلمانوں کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ اُنھیں اپنے جذبات پر کنٹرول کرنا ہے۔ انھیں ایسی کوئی بات لکھنا یا بولنا نہیں ہے جو دوسروں کے لیے اشتعال انگیز ثابت ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہو کہ وہ بھڑک اُٹھیں اور مسلمانوں کے دین کے خلاف منفی باتیں بولنے لگیں۔ اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے روکا گیا ہے کہ وہ دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائیں۔
دوسری آیت صلح حدیبیہ کے موقع کی ہے۔ اس موقع پر فریقِ مخالف نے سخت اشتعال انگیز باتیں کیں، مثلاً انھوں نے معاہدے کی تحریر میں رسول اللہ کے لفظ پر سخت اعتراض کیا اور رسول اور اصحاب رسول کو معاہدے کی تحریر سے اس کو مٹانے پر مجبور کیا، وغیرہ۔ ان باتوں سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تھی۔ لیکن خدا کی تعلیم کے مطابق اُنھوں نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا۔ مذکورہ آیت کے مطابق مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ خود اپنے آپ کو ایمان اور تقویٰ کی روش پر قائم رکھیں۔ یہ کوئی صحیح بات نہیں ہے کہ مسلمان دوسروں سے یہ مطالبہ کریں کہ تم ہمارے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچاؤ۔ یہی اسلام کا اصول ہے اور یہی عقل کا تقاضا بھی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن میں ایسی تعلیم کیوں دی گئی ہے جو بظاہر نابرابری کی تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو مشتعل ہونے سے روکنا اور دوسروں کی اشتعال انگیزی پر مسلمانوں
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues