Al-Risala · September 2006 · page 21

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۱

کو صبر اور اعراض کی تلقین کرنا‘ یک طرفہ اخلاقیات کا یہ اصول اسلام میں کیوں رکھا گیا ہے۔ اس کا جواب قرآن کی دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔

قرآن میں بار بار یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم صبر کی روش اختیار کرو۔ تم صبر سے مدد لو (استعينوا بالصبر) اسی طرح فرمایا کہ تم ان کی ایذا رسانی سے اعراض کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو۔ (دع اذا هم وتوكل على الله)۔ قرآن میں اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو یہ تعلیم دیتی ہیں کہ اہل اسلام فریق مخالف کے مقابلے میں ردِّ عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، وہ یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو صبر و تحمل کی روش پر قائم رکھیں ۔

اس یک طرفہ اخلاقیات کی معنویت قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ فرمایا کہ: وترجون من الله مالا يرجون (النساء ۱۰۴) یعنی صابرانہ روش کی اہمیت فریق مخالف کو معلوم نہیں ۔ کیوں کہ وہ موجودہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔ اس کے برعکس‘ تمہارا معاملہ یہ ہے کہ تم آخرت پر عقیدہ رکھتے ہو۔ تم کو یقین ہے کہ تمھاری صابرانہ روش کا انعام بے حساب مقدار میں آخرت میں ملے گا (إنما يوفى الصابرون أجرهم بغير حساب )

یہ معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ اہل اسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عالمی مشن دیا گیا ہے۔ اسی عالمی مشن کی ادائیگی پر اُن سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ مشن‘ دعوت الی اللہ ہے۔ اس دعوتی عمل کے لیے طرفین کے درمیان معتدل تعلقات نا گزیر طور پر ضروری ہیں ۔ دونوں کے درمیان معتدل تعلقات کے بغیر دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری نہیں رہ سکتا۔ یک طرفہ طور پر صابرانہ روش کی حکمت یہی ہے۔ صابرانہ روش کے ذریعہ ہی یہ ممکن ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان نارمل تعلقات قائم ہوں‘ اور مسلمان وہ دعوتی عمل انجام دے سکیں جس کی انجام دہی پر مسلمانوں کے لیے دنیا میں کامیابی اور آخرت میں جنت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ انجام صرف اہل ایمان کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ اس لیے اہل ایمان ہی کو یہ کرنا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان نارمل تعلقات کو برقرار رکھنے کی ذمے داری لیں۔ تا کہ وہ اللہ کے وعدے کے مطابق‘ بطور نتیجہ عظیم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page