دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۲
خدائی انعامات سے بہرہ ور ہوسکیں۔
یہاں جس دوطرفہ روش کا ذکر کیا گیا وہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ دراصل بامقصد انسان کا طریقہ ہے۔ بامقصد انسان یہ کرتا ہے کہ وہ اپنی روش کا تعین دوسروں کی روش کو دیکھ کر بطورِ ردِ عمل نہیں کرتا، اس کے بجائے اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی ناپسندیدہ باتوں سے غیر متاثر رہ کر یہ سوچتا ہے کہ اس کے مقصد کے اعتبار سے اس کے لیے صحیح روش کیا ہے۔ وہ کون سی روش ہے جو اس کے مستقبل کے لیے زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ سوچ بامقصد انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ محض جذباتی اشتعال کے تحت کوئی اقدام نہ کرے بلکہ سوچے سمجھے فیصلے کے تحت اپنے عمل کا تعین کرے ۔ اسی کا نام منصوبہ بند عمل ہے اور منصوبہ بند عمل با مقصد انسان کی ایک لازمی صفت ہے۔
تجربہ بتاتا ہے کہ جذباتی ردِ عمل ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتا ہے اور منصوبہ بند عمل ہمیشہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ جذباتی ردِ عمل میں آدمی کا رہنما اس کے منفی احساسات ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس، منصوبہ بند عمل میں اس کا رہنما اس کا مثبت ذہن ہوتا ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں میں سے ایک تخریب کاری کا عمل بن جاتا ہے اور دوسرا مکمل معنوں میں تعمیر کاری کا عمل۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسے واقعات ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں جن سے آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ لیکن حقیقت پسندانہ بات یہ ہے کہ آدمی ایسے واقعات کو نظر انداز کرے۔ وہ اپنے آپ کو اپنے جذبات کے بجائے اپنی عقل کے تابع بنائے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ جذبات کی پیروی کرنے والا ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ اور عقل کی پیروی کرنے والا ہمیشہ کامیاب رہتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues