آں چہ دانا کند، گند ناداں لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۰
خبر نامہ اسلامی مرکز ۲۷۱
نئی دہلی میں انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے نام سے ایک ادارہ ہے جو ایشیا کا سب سے بڑا ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ حال میں اُس کے تحت صدر اسلامی مرکز کے تین پروگرام ہوئے۔ ایک خود انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے زیر انتظام اور دو گڈ ورڈ بکس (Goodword Books) کے زیر انتظام۔ اِن کی تفصیل یہ ہے:
۱۔ دی مسیج آف قرآن (The Message of Quran) یکم مئی ۲۰۰۵۔
۲۔ ایسنس آف اسلام (Essence of Islam) ۵ جولائی ۲۰۰۵۔
۳۔ گاڈ اینڈ ہر کریشن پلان (God and His Creation Plan) ۱۰ جولائی ۲۰۰۵۔
یہ تینوں پروگرام کافی کامیاب رہے۔ ہر ایک میں ہندو اور مسلمان دونوں طبقے کے تعلیم یافتہ افراد نے شرکت کی۔ تینوں پروگراموں کے موقع پر اسلامی مرکز کا بک اسٹال رکھا گیا۔ لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں اور پمفلٹ اور بروشر حاصل کیے۔
۲۔ مظفر نگر کے ایک گاؤں میں ۴ جون ۲۰۰۵ کو ایک واقعہ ہوا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، ایک مسلم خاتون عمرانہ کے خسر علی محمد نے عمرانہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی (شوہر کا نام نور محمد ہے)۔ یہ واقعہ میڈیا میں بہت زیادہ پھیلا۔ یہ واقعہ انگریزی میگزین آؤٹ لُک کے شمارہ ۱۸ جولائی ۲۰۰۵ میں تفصیل کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اسٹار نیوز نے اس واقعے پر ۶ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ دستیاب معلومات کے مطابق، اس معاملے میں عمرانہ قصور وار نہیں ہے بلکہ اُس کا خُسر قصوروار ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہندوستان میں سزا دینے کا اختیار کسی دار الافتاء یا دار القضاء کو نہیں ہے۔ اُس کا اختیار تمام تر صرف ملکی عدالت کو ہے۔ ۳۔ اسٹار نیوز (نئی دہلی) نے عمرانہ کے واقعے (۴ جون ۲۰۰۵) پر صدر اسلامی مرکز کا دوسرا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو لائیو ٹیلی کاسٹ ہوا۔ اس میں جو بات کہی گئی اس میں سے ایک یہ تھی کہ ہم کو اس معاملے میں میڈیا سے شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر اصلاح معاشرہ کی تحریکیں چلائی جائیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔
۴۔ نئی دہلی کے ہندی روز نامہ مہا میگھا کے نمائندہ مسٹر سنجے کمار شاہ نے ۱۰ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم تہذیب اور مسلم عورتوں کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو پورے معنوں میں مرد کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں اگر اس اعتبار سے
‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues