Al-Risala · September 2006 · page 23

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۳

ٹیم کی اہمیت اقبال (وفات ۱۹۳۸ء) نے اپنی آخری عمر میں کہا تھا:

سُرودِ رفتہ باز آید کہ ناید نسے از حجاز آید کہ ناید سرآمد روزگار ایں فقیرے دگر دانائے راز آید کہ ناید اقبال اپنے آپ کو دانائے راز سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کے مشن کو آئندہ جاری رکھنے کے لیے ضرورت ہے کہ اقبال کی طرح ایک اور دانائے راز پیدا ہو۔ مگر یہ ایک خیالی بات ہے جو فطرت کے قانون کے مطابق نہیں۔ فطرت کے قانون کے مطابق، کوئی تخلیقی انسان ایک ہی بار پیدا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں سعودی عرب میں تھا۔ شیوخ کی ایک مجلس تھی۔ اس میں ایک صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ نے عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر اور دعوت کا جو کام شروع کیا ہے وہ بہت قابل قدر ہے۔ لیکن آپ کے بعد اس کام کو کون جاری رکھے گا۔ ایک اور عرب شیخ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: وحیدالدین لا يكون إلا وحيداً (یعنی وحید الدین صرف ایک ہی ہوتا ہے) یہی بات اقبال اور اس قسم کے دوسرے لوگوں کے لیے درست ہے۔

اس دنیا میں کسی مشن کو جاری رکھنے کا فطری طریقہ یہ نہیں ہے کہ اقبال کے بعد ایک اور اقبال پیدا ہو۔ اس قسم کی سوچ قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ اس دنیا میں صحیح طریقہ وہ ہے جس کو سورہ صف کی آخری آیت میں بتایا گیا ہے۔ یعنی اپنی زندگی میں ایک ایسی ٹیم تیار کرنا جو آدمی کے بعد اس کے مشن کے تسلسل کو جاری رکھ سکے۔ اس ٹیم کو حضرت مسیح کے یہاں حواری کہا گیا ہے اور پیغمبرِ اسلام کے یہاں انصار۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دونوں مثالوں میں دراصل صاحبِ مشن کی تیار کی ہوئی ٹیم تھی جس نے ان کے بعد ان کے مشن کو زندہ رکھا۔

میں خدا کی توفیق سے یہی کام کر رہا ہوں۔ میں نے اس غیر عملی فارمولے کو اختیار نہیں کیا کہ ایک دانائے راز کے بعد دوسرے دانائے رازکا فرضی خواب دیکھوں۔ میں نے مسلسل جدوجہد کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page