دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴
ذریعے ایک ٹیم تیار کرنے کی کوشش کی۔ جو میرے بعدالرسالہ مشن کو آئندہ جاری رکھے۔ یہ ٹیم اللہ کے فضل سے تقریباً تیار ہو چکی رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ٹیم میرے بعد مزید متحرک ہو کر حوار بین اور انصار اللہ کی تاریخ کو زندہ کرے گی اور الرسالہ مشن کو ساری دنیا میں پہنچادے گی۔ انصار اللہ جیسی ٹیم کو بنانا بلا شبہ ممکن ہے۔ البتہ اس کو بنانے کے لیے ایک قیمت درکار ہے۔ وہ قیمت یہ ہے کہ ٹیم کو بنانے والا اپنے آپ کو قربانی کی اعلیٰ سطح پر پہنچائے۔ وہ اس محرومی پر راضی ہو کہ اس کو عوامی مقبولیت نہ ملے۔ اس کی زندگی میں اس کے گرد بھیڑ اکٹھا نہ ہو۔ وہ دنیا میں شہرت اور ترقی کے مواقع کو رد کر کے ٹیم بنانے میں پوری طرح لگا رہے۔
ٹیم بنانے کا یہ کام افراد سازی کا کام ہے۔ یہ کام اس طرح نہیں ہوسکتا کہ عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے اسٹیج سے اس کے سامنے تقریریں کی جائیں۔ یہ طریقہ ٹیم بنانے کے لیے بالکل غیر مفید ہے۔ ٹیم بنانے کا کام فرد فر د کو مخاطب کر کے ہوتا ہے۔ ایک ایک فرد سے محبت کرنا، ایک ایک فرد کے ذہن کی ڈی کنڈ یشننگ کرنا، ایک ایک فرد پر لگا تار ذہنی تعمیر کی کوشش کرنا، ایک ایک فرد کو نشانہ بنا کر خاموش جد و جہد کرنا۔ اس طرح کا کام بلاشبہ ایک مشکل ترین قربانی کا طالب ہے۔ مگر اس قربانی کے ذریعے ہی کوئی ٹیم تیار ہوتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ یہ فطرت کا ایک نظام ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں، پھر وہ جوان ہوتے ہیں اور پھر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر وہ مر جاتے ہیں۔ اس طرح نسل در نسل یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ نظام اس لیے ہے کہ پچھلی نسل کا تجربہ اگلی نسل کے لوگوں تک پہنچتا ہے۔ زیادہ عمر کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اپنی اولاد کے لیے زندہ نہ رہیں بلکہ وسیع تر معنوں میں وہ انسانیت کے لیے زندہ رہیں ۔ وہ انسانیت کے خیر خواہ بن کر لوگوں کو اپنے علم اور اپنے تجربے کا سرمایہ منتقل کرتے رہیں۔ دوسری طرف نئی نسل کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ بے جا خود اعتمادی میں مبتلا نہ ہوں بلکہ پچھلے لوگوں سے زندگی کا درس لے کر اپنے سفر حیات کو زیادہ معنی بنائیں۔
رواں دریا میں یہی عمل فطری قانون کے تحت ہوتا ہے۔ رواں دریا میں ہر لمحہ پہاڑیوں کی
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues