دوسری آیت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۵
بلندی سے نیا پانی آتا ہے۔ پرانا پانی بہہ کر آگے چلا جاتا ہے اور نیا پانی آکر اس میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ روانی مسلسل جاری رہتی ہے۔ اس لیے دریا کا پانی ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح خراب نہیں ہوتا۔ یہی عمل شعوری طور پر انسانی نسل کے اندر انجام پاتا ہے۔ دریا میں یہ عمل فطری قانون کے تحت خود بخود انجام پاتا ہے۔ انسانی زندگی میں یہ عمل شعوری منصوبہ بندی کے تحت انجام پائے گا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں ایک آیت ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’اور یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں۔ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کر آتا، تاکہ وہ دین میں گہری سمجھ پیدا کرتا، اور واپس جا کر اپنی قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتا، تا کہ وہ بھی پر ہیز کرنے والے بنتے۔ ‘‘ (التوبہ ۱۲۲) قرآن کی اس آیت سے پیغمبرانہ عمل کی ایک حکمت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ ہر مشن کی ایک کور ٹیم (core team) ہوتی ہے۔ یہی کور ٹیم بعد میں مشن کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ عوام کی بھیڑ یہ کور ٹیم نہیں بناتی۔ کور ٹیم بنانے کی صورت صرف یہ ہے کہ کچھ افراد کو منتخب کر کے ان کے اوپر خصوصی محنت کی جائے۔ ان کی فکری تطہیر کر کے انھیں تیار کیا جائے۔
یہی لوگ ہیں جو بعد کو تربیت یافتہ گروپ کا درجہ حاصل کریں گے اور کام کو آگے بڑھائیں گے۔ میں اللہ کے فضل سے سی پی ایس کی ٹیم کی صورت میں یہی کام کر رہا ہوں۔ مولاناسید ابوالاعلیٰ مودودی کی اسلامی انقلاب کی تحریک بیسویں صدی کے نصف اول میں شروع ہوئی اور صدی کے آخر تک پورے بر صغیر ہند میں پھیل گئی۔ علماء اسلام کی طرف سے اس تحریک پر مثبت اور منفی دونوں قسم کے رد عمل سامنے آئے۔ زیر نظر کتاب میں اس تحریک کا اور اس کے بانی کی شخصیت کا علمی جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع پر یہ کتاب ایک جامع مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues