Al-Risala · September 2006 · page 27

دوسری آیت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۷

قبل سائنس دور میں انسان کو سب سے زیادہ بڑی چیز وہ دکھائی دیتی تھی جس کو مظاہر فطرت کہا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس زمانے کے انسان نے ہر اُس چیز کو معبود سمجھ کر اس کو پوجنا شروع کر دیا جو بظاہر بڑی اور نمایاں دکھائی دیتی تھی ۔ مثلاً چاند، سورج، ستارے، پہاڑ اور دریا، وغیرہ۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ ساری دنیا میں بت پرستی رائج ہوئی۔ اس زمانے میں بُت، انسان کے لیے توحید کا مدّ مقابل بن گئے ۔

ابراہیم بن آزر خدا کے ایک پیغمبر تھے۔ وہ چار ہزار سال پہلے عراق میں ظاہر ہوئے۔ یہ زمانہ وہی تھا جس کو توہم پرستی کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں تمام لوگ سورج، چاند اور ستارے جیسی نمایاں چیزوں کو معبود سمجھ کر ان کو پوجنے لگے تھے۔ قرآن (ابراہیم ۴) کے بیان کے مطابق، پیغمبر نے اُس دور کے انسانوں کے بارے میں یہ تبصرہ کیا تھا: ربِ إنهن أضللن كثيراً من الناس (اے میرے رب، انھوں نے بہت سے لوگوں کو بھٹکا دیا) یعنی لوگوں نے ان مظاہر فطرت کی ظاہری چمک کو دیکھ کر اُنھیں معبود سمجھ لیا۔

پچھلے ہزاروں سال کے دوران خدا نے بہت سے پیغمبر بھیجے۔ ان پیغمبروں کا مشترک مشن یہ تھا کہ وہ انسانوں کو مظاہر فطرت کی پرستش سے نکالیں اور اُن کو حقیقی خدا جو صرف ایک ہے، اِس کا پرستار بنائیں۔ مگر انسان مظاہر پرستی کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا۔ چھٹی صدی عیسوی کے آخر تک یہی صورت حال باقی رہی۔

آخر کار پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ عیسوی میں خدا نے ان کو اپنا پیغمبر بنایا۔ ان کو یہ مشن سپرد کیا گیا کہ وہ خدا کی خصوصی مدد سے قدیم بت پرستی کے دور کا خاتمہ کر دیں۔ آپ کے اس مشن کا ذکر قرآن میں اس طرح کیا گیا ہے: ”وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس کو تمام دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ گواہی کے لیے کافی ہے‘‘۔ (الفتح: ۲۸) اس آیت میں جس غلبہ (اظہار) کا ذکر ہے اس سے مراد فکری غلبہ ہے، یعنی دین شرک کو دلیل کی طاقت سے محروم کر دینا اور دینِ توحید کو دلیل کی طاقت سے قائم کر دینا۔ اس کام کو پیغمبرِ اسلام

‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues

Printed page