Al-Risala · January 2006 · page 41

Interfaith Bridge-building Session

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۶، صفحہ ۴۱

مسلم سماج میں کچھ کمی نظر آتی ہے تو وہ خود مسلمانوں کے اپنے عمل کی بنا پر ہے۔ اس کا تعلق اسلامی تعلیمات سے نہیں۔ ۵۔ ۲۵ جون ۲۰۰۵ کو ای ٹی وی (نئی دہلی) کی ٹیم نے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس کا تعلق مظفر نگر کے واقعہ (۴ جون ۲۰۰۵) سے تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ اس معاملے میں مسلم علماء کی طرف سے جو رویہ سامنے آیا وہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں عمرانہ بے قصور ہے۔ سارا قصور اس کے خسر کا ہے۔ مگر علماء نے برعکس فتوے دے کر خواہ مخواه اسلام کو بدنام کیا ہے۔ یہ فتوی تمام مسلم علماء کا نہیں ہے۔ بلکہ صرف دیوبند کے علماء کا فتویٰ ہے۔ جہاں تک سلفی علماء کا تعلق ہے، وہ اس فتوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

۶۔ بی بی سی لندن کے کرسپانڈنٹ مسٹر شکیل اختر نے ۲۹ جون ۲۰۰۵ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ ۱۹۴۷ کے بعد ہندوستان میں دو آل انڈیا مسلم تنظیمیں بنی ہیں، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ۔ یہ دونوں تنظیمیں حالات کے ری ایکشن کے تحت ہی بنیں۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت فرقہ وارانہ فساد کے رد عمل کے تحت بنی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ شاہ بانو کے کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے رد عمل میں بنا۔ یہ دونوں تنظیمیں ”میری تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی“ کا مصداق تھیں۔ اس لیے دونوں تنظیمیں بے نتیجہ رہیں۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ اس دنیا میں منفی عمل سے کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلتا۔

۷۔ فاؤنڈیشن فار یونیٹی آف ریلیجنز اینڈ انلائٹڈ سٹیٹز شپ (FUREC) کے زیراہتمام نئی دہلی میں ایک دھرم سمّیلن ہوا۔ اس کی کارروائی ادھیاتم سادھنا کیندر (مہرولی) میں ہوئی ۔ اس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز اس میں شریک ہوئے اور روحانیت کے موضوع پر ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہماری آج کی دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں پھول کے ساتھ کانٹے ہیں۔ یہاں ہر قسم کے مسائل ہیں جن کو قرآن میں کبد کہا گیا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ان مسائل کے خلاف چیخ پکار نہ کرے ۔ بلکہ وہ ان مسائل کے درمیان مثبت زندگی گزارے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ یہ سیمینار ۳۰ جون ۲۰۰۵ کو مہرولی میں ہوا۔ اس کے آرڈینیٹر بریگیڈیئر رپی کے لنگر تھے۔

۸۔ گاڈس گریس فاؤنڈیشن (God's Grace Foundation) دہلی کا ایک تعمیری ادارہ ہے۔ اس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید ظفر محمود ہیں۔ اس ادارے کے تحت، یکم جولائی ۲۰۰۵ کو ایک انٹرنیشنل سیمینار ہوا۔ اس میں امریکا کے آٹھ پروفیسر شریک ہوئے۔ انڈیا سے ہر مذہب کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز بھی اس میں شریک ہوئے۔ اس سیمینار کا موضوع یہ تھا:

Interfaith Bridge-building Session

‹ Previous page Next page › Contents of January 2006 All issues

Printed page