سادہ فارمولا
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۶، صفحہ ۴۴
کوئی سادہ چیز نہیں۔ وہ محبت کرنے والے کے لیے ایک عظیم نقصان کا باعث ہے۔ اس کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر واضح فکر پیدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ کنفیوژن میں مبتلا رہتا ہے۔ فکری وُضوح اور کنفیوژن کیا ہے۔ وہ دراصل سارٹنگ کا عمل ہے، یعنی ایک چیز سے دوسری چیز کو الگ کرنا۔ اسی سے ذہن کے اندر فکری وضوح آتا ہے۔ جب آدمی کسی وجہ سے سارٹنگ کا یہ کام نہ کر سکے تو اسی کے نتیجے کا نام وہ چیز ہے جس کو کنفیوژن کہا جاتا ہے۔
موصوف کو’’نو نیوز از گڈ نیوز‘‘ کا فارمولا بظاہر پسند آیا۔ مگر بیٹے کی محبت کی وجہ سے وہ یہ نہ کر سکے کہ وہ دو چیزوں کو ایک دوسرے سے الگ کریں۔ یعنی اپنے بیٹے کی روش کو غلط قرار دیں اور میں نے جو فارمولا بتایا اس کو صحیح سمجھیں۔ اس عدم سارٹنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا ذہن کنفیوژن میں پڑارہا۔ انھوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مان لیا کہ یہ بھی ٹھیک ہے اور وہ بھی ٹھیک۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ آدمی کو تھوڑی دیر میں دور دور کی خبریں مل جاتی ہیں۔ اس لیے موجودہ زمانے میں یہ فارمولا ہمیشہ سے زیادہ درست بن گیا ہے۔ اب تو منٹوں میں کوئی خبر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ فلاں شخص کے ساتھ دور کے شہر میں ایک حادثہ پیش آیا۔ وہ دو دن تک اسپتال میں رہا مگر ہمارے پاس اس کی خبر اس وقت آئی جب کہ اس کا انتقال ہو چکا تھا۔
میں نے کہا کہ آپ کی یہ سوچ ہمیشہ آپ کو کنفیوژن میں مبتلا رکھے گی۔ کیوں کہ آپ خیالات کی سارٹنگ کا کام کرنا نہیں جانتے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں آپ کی غلطی یہ ہے کہ آپ ایک استثناء (exception) کو جنرلا ئز کر رہے ہیں۔ ہر دن ہزاروں خبریں منٹوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ رہی ہیں۔ آپ نے اس کو چھوڑ کر ایک استثنائی واقعہ لے لیا اور اسی سے اپنی رائے بنانے لگے۔ یہی بیشتر لوگوں کا حال ہے۔ لوگ کسی نہ کسی وجہ سے ایسا کرتے ہیں کہ وہ خیالات کی سارٹنگ کا کام نہیں کرتے۔ اس بنا پر ان کا ذہن مختلف قسم کے خیالات کا جنگل بنا رہتا ہے۔ ان کے اندر نہ وضوح فکر پیدا ہوتا ہے اور نہ وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ تجزیہ و تحلیل کا کام انجام دے سکیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2006 All issues