اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۰
صورت حال میں ایک حقیقی انسان سے جو امید کی جائے، وہ ہمیشہ اس پر پورا اترے۔ سورج مسلسل طور پر روشنی اور حرارت سپلائی کرتا ہے۔ اس معاملے میں وہ اپنے اور غیر کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ وہ سب کو یکساں طور پر روشنی اور حرارت کا خزانہ پہنچاتا رہتا ہے۔ یہی کردار انسان کا بھی ہونا چاہیے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر ایک کے لیے نفع بخش بنے۔ اپنوں کے لیے بھی اور غیروں کے لیے بھی۔ دوستوں کے لیے بھی اور دشمنوں کے لیے بھی۔ خوش گوار تعلق والوں کے لیے بھی اور ناخوش گوار تعلق والوں کے لیے بھی۔ یہی کسی انسان کے لیے اعلیٰ معیاری اخلاق ہے۔ شہد کی مکھی اپنے مقام سے اُڑ کر جنگل میں جاتی ہے۔ یہاں بہت سی مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ مثلاً لکڑی، کانٹا، جھاڑی اور گھاس، وغیرہ۔ لیکن شہد کی مکھی انتخابی طریقہ اختیار کرتی ہے۔ وہ ہر دوسری چیز سے اعراض کر کے سیدھے اُس پھول تک پہنچتی ہے جہاں سے اس کو میٹھا رس لینا ہے۔ یہی انتخابی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ اس کو سماج میں اس طرح رہنا چاہیے کہ وہ غیر مطلوب چیزوں سے اعراض کر کے۔ وہ ہر ناپسندیدہ چیز سے دور رہتے ہوئے اپنے مطلوب تک پہنچ جائے۔ انسان اور بقیہ کائنات میں ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ بقیہ کائنات نے جس کردار کو مجبوارنہ طور پر اختیار کر رکھا ہے، اُسی کردار کو انسان خود اپنی آزادی کے تحت اختیار کرے۔ بقیہ کائنات مجبورانہ اخلاق کی مثال ہے۔ مگر انسان کو اختیاریانہ کردار کا نمونہ بننا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بقیہ کائنات کے لیے نہ کوئی انعام ہے اور نہ کوئی سزا۔ لیکن انسان کے لیے خدا کا قائم کردہ قانون یہ ہے کہ جو شخص اس مطلوب کردار کو اختیار نہ کرے وہ خدا کی طرف سے سزا پائے گا اور جو شخص اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اس مطلوب کردار کا حامل بن جائے اس کو خدا کی طرف سے ابدی انعام کا مستحق قرار دیا جائے گا۔ یہ امتیازی انعام اس کائنات میں صرف انسان کے لیے مقدر ہے۔ کیوں کہ انسان خود اپنے اختیار سے وہ مطلوب روش اختیار کرتا ہے، جس کو بقیہ کائنات مجبورانہ طور پر اختیار کیے ہوئے ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues