آئی ڈینٹی کی تلاش
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۱
آئی ڈینٹی کی تلاش
میں کون ہوں (who am I) ایک ایسا سوال ہے جو ہمیشہ سے انسان کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس سوال کو ایک لفظ میں آئی ڈینٹی کرائسس (identity crisis) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ افکار کی تاریخ (history of thought) بتاتی ہے کہ اس معاملے میں انسانی دماغ سب سے زیادہ جس تصور سے مسحور رہا ہے وہ وحدت وجود (monism) کا تصور ہے۔ ہندو ازم میں اس کو اڈوئت واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کا مطلب یہ ہے کہ یہاں ایک عظیم پھیلی ہوئی طاقت ہے اور انسان اسی طاقت کا ایک جزو ہے۔
فلسفہ اور مذہب دونوں میں یہ نظریہ ہمیشہ چھایا رہا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان بھی بعد کے زمانے میں یہ نظریہ پھیل گیا۔ صوفیا میں خاص طور پر اور علماء میں عام طور پر اس نظریے نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کرلی۔ مثنوی مولانا روم، جس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہو چکا ہے، اور جو نہ صرف صوفیا بلکہ علماء میں بھی مقدس کتاب کے طور پر پڑھی جاتی رہی ہے، وہ پوری کی پوری وحدت وجود کے تصور پر لکھی گئی ہے۔
اس بات کو اردو شاعر نے اس طرح بیان کیا ہے:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا اصل یہ ہے کہ انسان جب پیدا ہو کر دنیا میں آتا ہے تو وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس سوال سے دوچار ہوتا ہے کہ میں کون ہوں، میں کہاں سے آیا ہوں، اور میری منزل کیا ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے یونانی فلسفیوں نے آئی ڈینٹی کرائسس کے اس سوال پر غور کرنا شروع کیا۔ انھوں نے یہ فرض کیا کہ انسان ایک حقیقت گُلی کا حصہ ہے۔ وہ صرف اس لیے اس سے الگ ہوا ہے کہ ایک دن وہ دوبارہ اس سے مل جائے۔ انسان ایک الگ وجود کی حیثیت سے اپنی شناخت نہیں پا رہا تھا۔ لیکن جب اس نے یہ مان لیا کہ وہ ایک عظیم تر حقیقتِ گُلی کا ذاتی جز ہے تو اس نے گویا اپنی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues