بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۲
شناخت پالی۔ کائنات کے اندر اس کو اپنی پہچان معلوم ہوگئی۔ یہ نظریہ بہت بڑے پیمانے پر پھیلا۔ یہی وہ نظریہ ہے جس کو مانزم اور ادویت و داد اور وحدت وجود کہا جاتا ہے۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان اپنی ذات میں ایک نامکمل وجود ہے۔ وہ اپنی تکمیل کے لیے اپنی ذات سے باہر کسی اور چیز کو چاہتا ہے۔ یہ احساس ہر انسان کو مسلسل طور پر بے چین رکھتا ہے۔ جب انسان کو اپنی اس تلاش کا جواب نہیں ملتا تو اس کا حال وہ ہو جاتا ہے جس کو سر جیمز جینز نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا میں شاید بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہوں جو میرے لیے بنائی نہیں گئی۔ اسی احساس کی ترجمانی ایک اردو شاعر نے اس طرح کی ہے :
مجھے بلا کے یہاں، آپ چپ کیا کوئی وہ مبہم ہوں جسے میز باں نہیں ملتا I was invited here, but when I came the invitee was absent. I am the guest who failed to find his host. میں نے وحدت وجود کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ مگر میں نے پایا کہ اس پورے نظریے کے پیچھے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ یہ پورا نظریہ صرف تمثیلات پر کھڑا کیا گیا ہے، اور تمثیل کسی بھی درجے میں منطقی دلیل کے قائم مقام نہیں۔ مثال کے طور پر ہند وازم کو ماننے والے یہ دلیل دیتے ہیں کہ سمندر کا ایک قطرہ سمندر سے باہر ہو تب بھی وہ سمندر کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان حقیقت کے سمندر کا ایک قطرہ ہے۔ جب تک وہ باہر ہے وہ ایک الگ قطرہ دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جب وہ سمندر میں مل جائے تو اس کے بعد ایک الگ قطرے کی حیثیت سے اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہتا۔ اسی بات کو مثنوی مولانا روم میں اس طرح کہا گیا ہے :
بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
اصل یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ ایک کنفیوژن کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ انسان کے اندر اپنی شناخت کے حوالے سے جو بحران (crisis) پایا جاتا رہا ہے وہ اس لیے نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ اپنے سمندر کی تلاش میں ہے، بلکہ وہ اس لیے ہے کہ مخلوق اپنے خالق کو پہچاننا چاہتی ہے۔ اسی فرق کو نہ سمجھنے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues