بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳
کی وجہ سے وہ نظریات پیدا ہوئے جن کو مانزم یا اس طرح کے دوسرے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس معاملے پر قرآن کی روشنی میں غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بندے اور خدا کے درمیان ربط اپنے آپ میں ایک فطری حقیقت ہے۔ لیکن اس ربط کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی کا قطرہ سمندر میں مل کر ایک ہو جائے، بلکہ اس کا مطلب صرف قربت (nearness) ہے۔ انسان فطری طور پر اپنے اُس خدا کی قربت چاہتا ہے جس نے اس کو پیدا کیا، اور جو اس کو سب کچھ دینے والا اور اس کو سنبھالنے والا ہے۔ اس قربت کو ماں اور بیٹے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ بیٹا اپنی ماں سے قریب ہونا چاہتا ہے۔ یہ بلا شبہ اس کی سب سے بڑی خواہش ہے۔ لیکن اس خواہش کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ماں اور بیٹا دونوں کی ذات ایک دوسرے میں مدغم ہو جائے، یہاں تک کہ بیٹے کا کوئی الگ وجود باقی نہ رہے۔ بیٹے کے اندر یہ خواہش سادہ طور پر صرف قربت کے معنی میں ہے نہ کہ انضمام (merger) کے معنی میں۔
قرآن میں خدا اور بندے کی دنیوی قربت کے معنی میں یہ آیت آئی ہے: واسجد واقترب (العلق)، اور آخرت میں خدا اور بندے کی قربت کا تصور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: رب ابن لی عندك بيتاً في الجنّة (التحريم اا)
اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان روحانی ہم سائگی (spiritual neighbourhood) کا معاملہ پیش آتا ہے اور آخرت کی زندگی میں خدا اور بندے کے درمیان مادی ہم سائگی (physical neighbourhood) کا تجربہ ہوگا۔ جو کہ انسان کے لیے تمام لذتوں سے زیادہ لذيذ ثابت ہوگا۔ اس معاملے پر مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے انسان کو پیدا کر کے جس دنیا میں اس کو رکھا ہے وہ دنیا پورے معنوں میں اپنے خالق کا تعارف ہے۔ یہاں وسیع خلا ہے جو خالق کی ناقابلِ احاطہ ہستی کا گویا ایک تعارف ہے۔ یہاں روشن سورج اور روشن ستارے ہیں جو بتاتے ہیں کہ خالق کس طرح تمام موجودات کے لیے روشنی کا منبع ہے۔ یہاں اونچے پہاڑ ہیں جو خدا کی عظمت کا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues