بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۴
ایک علامتی اظہار ہیں۔ یہاں پانی کے اتھاہ سمندر ہیں جو خدا کی بے پایا ں رحمت کی داستان سنا رہے ہیں۔ یہاں سرسبز درخت ہیں جو یہ بتا رہے ہیں کہ خدا نے کس طرح ہماری زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کا حیرت انگیز نظام قائم کر رکھا ہے، وغیرہ۔
انسان پیدائشی طور پر ایک عاجز مخلوق ہے۔ وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے اپنے سے بڑی کسی ہستی کو پانا چاہتا ہے۔ اسی فطری احساس کی توجیہہ کرنے کی کوشش میں وحدتِ وجود کی قسم کے فلسفے بنے۔ مگر اس احساس کا صحیح جواب یہ ہے کہ انسان خدا کی معرفت حاصل کرے۔ وہ خدا کی تخلیق میں غور و فکر کر کے خدا کی جھلکیاں دیکھے۔ وہ خدا کو دریافت کرنے کی سعادت حاصل کرے۔ قرآن کے مطابق، انسان کی زندگی کا ایک مختصر حصہ قبل از موت دورِ حیات میں رکھا گیا ہے، اور اس کا زیادہ بڑا حصہ بعد از موت دور میں رکھا گیا ہے۔ ان دونوں دوروں میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ مخلوق کو اپنے خالق کی قربت حاصل ہو جائے۔ یہ قربت، دنیا کی زندگی میں تصوّراتی قربت کی صورت میں حاصل ہوگی، اور آخرت کی زندگی میں حقیقی قربت کی صورت میں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ دنیا کی زندگی میں آدمی کو خدا رُخی زندگی حاصل ہو جائے اور آخرت میں اس کو خدا کے پڑوس میں رہنے کی سعادت ملے۔
ممبئی میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتہ پر دستیاب ہیں۔ ٹیلی فون پر آرڈر دے کر بھی کتابیں منگوائی جاسکتی ہیں :
ICRA (Islamic Centre for Research & Awareness)
3, Shantaram Patil Bldg. behind Firdaus Mithaiwala, Near Andheri Station (W), Mumbai-400058 Tel. 26285223, Mob. 9821197534
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues