بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۵
لائف بیائنڈ لائف Life Beyond Life کیا موت کے بعد آدمی دوبارہ زندہ رہتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ ہاں۔ موجودہ دنیا میں کسی بھی چیز کو ثابت کرنے کے لیے جس طرز استدلال کو معتبر سمجھا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرز استدلال سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ موت کسی کے لیے زندگی کا خاتمہ نہیں۔ ہر عورت اور مرد کی زندگی ابدی ہے۔ موت کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی ایک دور حیات سے نکل کر دوسرے دور حیات میں داخل ہو جاتا ہے۔ ۱۔ علماءِ طب پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ موت کا مطلب دل کی حرکت کا بند ہو جانا ہے۔ مگر اب یہ نظریہ رد کیا جا چکا ہے۔ اب یہ مانا جاتا ہے کہ کوئی آدمی اُس وقت مرتا ہے جب کہ اس کے برین کا فنکشن رُک جائے۔ اس واقعہ کو بتانے کے لیے فنکشن کا لفظ درست نہیں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ برین کسی انسان کے لیے موجودہ دنیا میں اس کے سفر کا آخری اسٹیشن ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، جب انسان کے ساتھ وہ واقعہ پیش آتا ہے جس کو کلنکل موت (clinical death) کہا جاتا ہے تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے جسم سے روح نکل جاتی ہے، لیکن جہاں تک برین کا تعلق ہے، وہ بدستور ویسا ہی باقی رہتا ہے جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا۔ موت کے بعد برین کا ایک سیل (cell) بھی کم نہیں ہوتا۔
اس سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ روح یا انسان کی شخصیت (personality) برین سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ وہ کسی بھی اعتبار سے برین کا حصہ نہیں۔ ۲۔ اس سلسلے میں دوسری قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ مرنے والا انسان مر کر بظاہر ہمارے پاس سے چلا جاتا ہے۔ لیکن اس کے وجود کا کم از کم ایک حصہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ یہ اس شخص کی آواز ہے۔ اس کے مرنے کے بعد جب ہم کیسیت پر اس کی آواز سنتے ہیں تو ہم کسی شبہہ کے بغیر یہ جان لیتے ہیں کہ یہ آواز اُسی مرنے والے انسان کی آواز ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues