بشنو از نے حکایت می کند از جدائی ہاشکایت می کند
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۶
موت کے بعد کسی آدمی کی آواز کا ٹھیک اُسی طرح موجود رہنا، اِس بات کا کم از کم ایک جزئی ثبوت ہے کہ انسان کی ہستی ایک غیر فانی ہستی ہے۔ انسان کی شخصیت کا اگر ایک جز ثابت شدہ طور پر موت کے بعد بھی باقی رہتا ہے تو اِسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ انسان کی پوری ہستی بھی قابلِ اعادہ (repeatable) حالت میں باقی اور موجود ہو۔
اگر یہ کہا جائے کہ موت کے بعد کسی انسان کی آواز جو باقی رہتی ہے وہ صوتی لہروں (sound waves) کی شکل میں باقی رہتی ہے۔ جب کہ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں۔ اِس لیے کہ اِس دنیا میں ہر چیز لہروں ہی کا ایک مجموعہ ہے۔ اِس دنیا میں جو چیزیں ہیں اُن کی آخری ہیئت لہروں پر مشتمل ہے۔ میٹریل ورلڈ کی ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں الیکٹران ہے، اور الیکٹران کے بارے میں سائنس داں یہ کہتے ہیں کہ وہ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ اَمواجِ امکان (waves of probability) ہیں، اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ پھر اگر اِس دنیا کی تمام چیزیں اَمواجِ امکان ہیں تو انسان کی شخصیت بھی اگر امواجِ امکان کی ایک صورت ہو تو اِس کے وجود سے انکار کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ۳۔ حیاتیاتی سائنس بتاتی ہے کہ انسان کا وجود بے شمار چھوٹے چھوٹے سیل (cell) کا مجموعہ ہے۔ یہ سیل ہر وقت ٹوٹتے رہتے ہیں، اور نیا سیل پرانے سیل کی جگہ لیتا رہتا ہے۔ یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پورے جسم کے تمام سیل بدل جاتے ہیں۔ گویا کہ معروف موت سے پہلے بھی انسان کا جسم برابر مرتا رہتا ہے۔
جسم میں سیل کے بدلنے (replacement) کا یہ عمل برابر جاری رہتا ہے۔ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی انسان کا سابقہ جسم مکمل طور پر مر جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آدمی کا حافظہ (memory) مستقل طور پر ایک حالت میں باقی رہتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب جسم پر بار بار موت واقع ہوتی ہے تو انسان کا حافظہ کہاں باقی رہتا ہے۔ اگر وہ جسم کے سیل پر موجود رہا ہو تو حافظے کو ختم ہو جانا چاہیے۔ لیکن سیل کے فنا ہونے کے باوجود حافظے کا باقی رہنا، اِس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کی شخصیت، جسم سے ماورا ایک مستقل وجود ہے۔ وہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues