ڈائیلاگ اسلام میں
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۸
ڈائیلاگ اسلام میں
ڈائیلاگ (dialogue) یا مکالمہ دو شخصیتوں یا دو پارٹیوں کے درمیان بات چیت (conversation) کا نام ہے۔ ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے کہ کسی اختلافی مسئلے کا پر امن حل تلاش کیا جائے ۔ قدیم بادشاہی دور میں آزادانہ ڈائیلاگ کا رواج نہ تھا۔ جب دنیا میں ڈیموکریسی آئی تو فطری طور پر لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ ہونے لگا۔ یہ ڈائیلاگ سیاسی سطح پر بھی جاری ہوا، اور غیر سیاسی سطح پر بھی۔
ڈائیلاگ دراصل انسانیت کو حیوانی دور سے اٹھا کر انسانی دور میں لانے کا نام ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اختلاف کی باتوں پر لڑ جاتے تھے۔ وہ اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے، اور وہ لڑائی تھی۔ لیکن ڈیموکریسی نے اس طریقے کو ختم کر دیا، اور انسان کو جنگ کلچر کے دور سے نکال کر امن کلچر کے دور میں پہنچایا۔ ڈائیلاگ یا پر امن مکالمے کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت کے اصول پر قائم ہے، اور دعوت پر امن گفت و شنید کا دوسرا نام ہے۔ اسلام میں تشدد مکمل طور پر ایک ممنوع فعل ہے۔ اس ممانعت میں صرف ایک استثناء ہے، اور وہ دفاع کا ہے۔ یہ دفاع ، خارجی حملے کے وقت ہوتا ہے۔ اور دفاع کا یہ کام بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیم، دفاع یا انصاف کے نام پر تشددانہ لڑائی لڑنے کا حق نہیں رکھتی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ۶۱۰ عیسوی میں عرب میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ مشن کیا تھا۔ وہ مشن یہ تھا کہ آپ اپنی آئیڈیالوجی کو لے کر لوگوں میں جائیں اور لوگوں سے اس کے بارے میں بات چیت کریں۔ ان کے اعتراضات کو سنیں اور دلیل کے ذریعے اپنے نقطہ نظر پر انھیں مطمئن کرنے کی کوشش کریں۔ پیغمبر اسلام پر جب وحی اترنا شروع ہوئی تو اس کے آغاز ہی میں آپ پر یہ آیت اتری: وأما بنعمة ربك فحدث (الضحیٰ : (۱۱) یعنی خدا کی طرف سے آپ کو جو نظریہ حیات دیا گیا ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues