Al-Risala · October 2006 · page 19

ڈائیلاگ اسلام میں

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۹

لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کریں۔ آپ کا نظریۂ حیات توحید پر مبنی تھا، جب کہ اُس وقت عرب کے لوگ شرک پر عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے فطری طور پر آپ کا مشن دو طرفہ گفت و شنید کا موضوع بن گیا۔ آپ لوگوں سے اپنی بات کہتے اور لوگوں کا رد عمل سنتے اور پھر اس کی مزید وضاحت کرتے۔ اس طرح آپ کا مشن عملاً وہی چیز بن گیا جس کو موجودہ زمانے میں ڈائیلاگ کہا جاتا ہے۔ اس ڈائیلاگ کو مفید بنانے کے لیے قرآن میں کچھ بامعنی اصول بتائے گئے ہیں۔ ان اصولوں میں سے کچھ اصولوں کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔

۱۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت وہ ہے جس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے:”اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بُلاؤ، اور اُن سے اچھے طریقے سے بحث کرو۔ “ (النحل: ۱۲۵)

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں سے تم جو گفتگو کرو وہ جُدال احسن کے طریقے پر ہو۔ یعنی فریق ثانی سے تکرار نہ کرنا، بلکہ اس کے اختلاف کو سُن کر سنجیدگی کے ساتھ ایسی بات کہنا جو اس کے مائنڈ کو ایڈیریس کرنے والی ہو۔ گفتگو محض بحث و مباحثے پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ایک نتیجہ خیز انجام پر ختم ہو۔ بات چیت کے دوران حریفانہ اور رقیبانہ انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ علمی انداز اختیار کیا جائے۔ ۲۔ اس سلسلے میں دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے:

”اور بھلائی اور بُرائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ “ (حم السجدہ: ۳۴) قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی مسٹر دشمن نہیں۔ ہر آدمی امکانی طور پر مسٹر دوست ہے۔ اس لیے کہ ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، کئی فطرت پر نہیں۔ اس قرآنی اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائیلاگ کا آغاز اس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے ہی سے دونوں فریق ایک دوسرے کے بارے میں ناامید بنے ہوئے ہوں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈائیلاگ کا عمل پر اُمید ذہن کے ساتھ کیا جائے نہ کہ ناامیدی اور مایوسی کے ذہن کے ساتھ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page