Al-Risala · October 2006 · page 33

قیادت ناکام، مسلمان کامیاب

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۳

قیادت ناکام، مسلمان کامیاب

۱۹۴۷ میں ہندوستان آزاد ہوا۔ اُس وقت یہاں کے مسلمان، غالباً بلا استثناء، یہ سمجھ رہے تھے کہ اس ملک میں اب مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ اُس زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے جس قسم کی مایوس گُن باتیں کہہ رہے تھے اُس کی ایک علامتی مثال مسٹر خالد لطیف گابا (وفات ۱۹۸۱) کی انگریزی کتاب منفعل آوازیں (Passive Voices) ہے۔ اس کتاب کے دیباچے میں انھوں نے لکھا تھا کہ انڈِیا کے مسلمانوں کی حالت کا خلاصہ بتانے کے لیے صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس ملک میں منفعل آوازیں بن چکے ہیں:

It would be difficult to sum up the status and conditions of Muslims in India better in two words "Passive Voices". یہ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں مسلم قیادت کا عمومی اندازہ تھا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ نتیجہ عملاً اس کے بالکل برعکس نکلا۔ آج ہندوستان کے مسلمان اس ملک میں ہمیشہ سے زیادہ بہتر حالت میں ہیں، حتیٰ کہ مغل دور سے بھی زیادہ بہتر حالت میں۔ آج کے شہروں میں مسلمانوں کو جو مادی سہولیات حاصل ہیں وہ مغل دور کے مسلمانوں کو بھی حاصل نہ تھیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے مسلمان موجودہ ستاون مسلم ملکوں سے بھی زیادہ بہتر حالت میں ہیں۔ اس کی علامتی مثال یہ ہے کہ پاکستان کا مسلمان نیوکلیئر سائنسٹ ڈا کٹر عبد القدیر خاں قید کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈِیا کا مسلمان نیوکلیئر سائنسٹ ڈا کٹر عبد الکلام، ملک کی صدارت کے عہدے پر فائز ہے۔

اس طرح انڈِیا کے حکیم عبد الحمید (وفات ۱۹۹۹) نے دہلی میں ہمدرد یونیورسٹی بنائی۔ اس کے بعد اپنی عمر طبعی کے مطابق، ان کی وفات ہوئی۔ اس کے برعکس، حکیم محمد سعید (وفات ۱۹۹۸) نے کراچی میں ہمدرد یونیورسٹی بنائی اور ان کے دفتر میں ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page