قیادت ناکام، مسلمان کامیاب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۴
موجودہ ہندوستان میں مسلمانوں کی جو ترقی یافتہ حالت ہے اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ۱۹۷۶ء میں جب میں دہلی آیا، اُس وقت دہلی میں یہ حالت تھی کہ جمعہ اور عیدین کے دن مسجد کے باہر کسی مسلمان کی کار دکھائی نہیں دیتی تھی۔ آج یہ حالت ہے کہ آپ جس مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نماز ادا کریں، وہاں آپ کو مسجد کے باہر مسلم کاروں کی لمبی قطاریں دکھائی دیں گی۔ میں ۱۹۸۳ء میں نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) کی کالونی میں آیا۔ اُس وقت یہاں ہر طرف صرف ہندو دکھائی دیتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ کالونی کی پیش تر بلڈنگوں کو مسلمانوں نے بڑی بڑی قیمت دے کر خرید لیا ہے۔ یہاں کی سڑکوں پر رات، دن مسلمانوں کی کاریں دوڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
اس معاملے کو ایک اور مثال سے سمجھیے ۔ پروفیسر خورشید احمد (مقیم برطانیہ) نے اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدر آبادی (وفات ۲۰۰۲) کے بارے میں ان کے حالات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ :
” میرے استفسار پر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے ایک بار بتایا کہ“ میں دولتِ آصفیہ (حیدر آباد) کے پاسپورٹ پر یورپ آیا تھا۔ پھر (پولیس ایکشن کے بعد میری غیرت نے قبول نہ کیا کہ بھارت کا پاسپورٹ حاصل کروں.....‘‘ ان کی دینی حس اتنی بیدار تھی کہ حیدر آباد دکن سے یورپ جانے کے بعد مقبوضہ حیدر آباد دکن کبھی واپس نہ آئے۔ جب میں نے اصرار کیا کہ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے پروگرام میں شریک ہوں، تو بڑے دُکھ سے کہا کہ میں اُس انگلستان کی سر زمین پر قدم رکھنا پسند نہیں کرتا جس نے میرے آزاد ملک کو بھارت کی غلامی میں دے دیا۔ وہ کبھی برطانیہ نہ آئے ‘‘۔ (ماہ نامہ میثاق، لاہور، مئی ۲۰۰۳) ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے احساسات جو حیدر آباد کے بارے میں تھے وہی ۱۹۷۶ء کے بعد تمام مسلم قائدین کے احساسات تھے۔ لیکن عملاً یہ ہوا کہ ۱۹۷۶ء کے بعد حیدر آباد کے مسلمانوں نے غیر معمولی ترقی کی ، ایسی ترقی جو اُنھیں سابق دولتِ آصفیہ کے زمانے میں بھی حاصل نہ تھی۔ میں نے حیدر آباد کو ۱۹۷۶ء سے پہلے بھی دیکھا تھا، اور آج کے حیدر آباد کو بھی میں نے کئی بار بار دیکھا ہے۔ یہ ایک حقیقت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues