قیادت ناکام، مسلمان کامیاب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۵
ہے کہ آج حیدر آباد کے مسلمانوں نے اتنی زیادہ ترقی کی ہے جس کا تصور بھی ۱۹۷۲ سے پہلے کے مسلمان نہیں کر سکتے تھے۔
آج آپ حیدر آباد کے جس حصے میں جائیں وہاں آپ کو مسلمانوں کی شان دار دکانیں اور بڑے بڑے نو تعمیر رہائشی مکانات نظر آئیں گے۔ مسجدیں اور مدرسے اور مسلم ادارے اپنی شان دار بلڈنگوں کے ساتھ بتا رہے ہوں گے کہ نے حیدر آباد میں مسلمانوں کو غیر معمولی ترقیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یہی حال پورے ملک کا ہے۔ اوپر میں نے ملک کے دو بڑے شہروں کا ذکر کیا ہے۔ مشرقی یوپی میں میرا آبائی گاؤں ایک دور افتادہ گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا۔ ۱۹۷۲ سے پہلے یہاں ترقی نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ مگر آج اس گاؤں میں بجلی ، ٹیلی فون اور سڑک جیسی چیزوں کی موجودگی بتا رہی ہے کہ اب یہ گاؤں بھی ملکی ترقی کے نقشے پر آ چکا ہے۔ گاؤں میں شان دار مدرسہ اور شان دار اسکول قائم ہے۔ گاؤں میں ہر طرف پختہ مکانات نظر آتے ہیں ، وغیرہ۔
یہی حالت آج پورے ملک میں مسلمانوں کی ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک ہر جگہ مسلمان تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ وہ تجارت اور تعلیم اور دوسرے ترقیاتی شعبوں میں نمایاں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انڈیا کے ہر شہر اور ہر علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی مسلمان اس حقیقت کا انکار کرے تو اس سے آپ صرف ایک سوال کیجئے کہ تمھارے اپنے خاندان کی معاشی حالت ۱۹۷۲ سے پہلے کیا تھی، اور اب کیا ہے۔ یقینی طور پر اس کا جواب یہ ہوگا کہ آج میرا خاندان ۱۹۴۷ کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر حالت میں ہے۔ پہلے اگر ہمارے گھر کے لوگ سائیکل نشیں تھے تو اب وہ کار نشیں ہو گئے ہیں ، وغیرہ۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلم قائدین کے تمام مایوسانہ اندازوں کے سراسر خلاف، ہندوستانی مسلمانوں کی حالت اتنی زیادہ بہتر کیسے ہو گئی۔ یہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ یہ تمام تر زمانی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ ۱۹۷۲ سے پہلے کا انڈیا ، بنیادی طور پر، زرعی دور میں تھا۔ ۱۹۴۷ کے بعد کا انڈیا ، بنیادی طور پر، صنعتی دور میں پہنچ چکا ہے۔ زرعی دور میں معاشی ذرائع صرف لینڈ لارڈ کے پاس ہوا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues