قیادت ناکام، مسلمان کامیاب
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۶
کرتے تھے۔ صنعتی دور نے معاشی ذرائع کو ڈی سینٹرلائز(de-centralize) کر دیا۔ اسی زمانی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ آج معاشی اسباب تمام لوگوں کے لیے قابل حصول ہوگیے۔ اسبابِ معیشت کے اس عمومی پھیلاؤ میں جس طرح دوسروں کو حصہ ملا، اُسی طرح مسلمانوں کو بھی اس میں حصہ ملا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ ان کے اوپر ایسے لوگ قائد بن گئے جو زمانی بصیرت سے مکمل طور پر خالی تھے۔ اپنی بے بصیرتی کی بنا پر وہ صرف ماضی کو دیکھ سکے۔ انھیں زمانے کی اُن انقلابی تبدیلیوں کی خبر نہ ہوسکی جو دورِ جدید کو مکمل طور پر بدل دینے والی تھیں۔ مسلمانوں کے یہ بے بصیرت قائدین، مسلمانوں کو منفی خبریں بتاتے رہے۔ جب کہ عین اسی وقت زمانے کے اندر ہونے والا تاریخی عمل، پورے ملک اور پورے سماج کو ایک نئے ترقیاتی دور کی طرف لے جارہا تھا، جہاں معاشی مواقع ہر ایک کے لیے کُھل جائیں، جہاں کوئی بھی شخص عمومی اقتصادی برسات میں حصہ پانے سے محروم نہ رہے۔
مسلمانوں کے نام نہاد قائدین، اپنی بے بصیرتی کی بنا پر منفی بولی بولتے رہے۔ دوسری طرف زمانی اسباب مسلمانوں کے لیے ترقی کے دروازے کھولتے رہے۔ یہی وہ دو طرفہ واقعہ ہے جس کا نتیجہ ہم آج اس صورت میں دیکھ رہے ہیں کہ مسلم قائدین مکمل طور پر نا کام ہیں، اور مسلم کمیونٹی مکمل طور پر کامیاب۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues