عارضی دو حیات ، ابدی دو حیات
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۷
عارضی دو حیات ، ابدی دو حیات
ایک طالبِ علم جب اپنی زندگی کے تعلیمی مرحلے میں ہو تو اُس کی سوچ اُس سے مختلف ہوتی ہے جب کہ وہ اپنی تعلیم کو مکمل کر کے اپنے لیے ایک اچھا جاب حاصل کرلے۔ پہلے مرحلے میں وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ ایک مسافر ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ گیا ہو۔ پہلے مرحلے میں وہ ہر چیز کو ایک وقتی چیز سمجھتا ہے۔ جب کہ دوسرے مرحلے میں وہ ہر چیز کو اس حیثیت سے لیتا ہے جیسے کہ وہ اس کی زندگی کا مستقل حصہ ہو۔ یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں، انسانی زندگی کا ہے۔ انسان کو ہمیشہ کی عمر دی گئی ہے۔ اس عمر کے دو حصے ہیں ، قبل از موت، اور بعد از موت۔ قبل از موت، آدمی اپنے عارضی دو حیات میں رہتا ہے۔ بعد از موت وہ اپنے ابدی دو حیات میں پہنچ جاتا ہے۔ اگر یہ حقیقت آدمی کے اندر زندہ شعور کے طور پر موجود ہو تو یہی اس کی مکمل اصلاح کے لیے کافی ہو جائے۔
موجودہ دنیا کو مذہبی اصطلاح میں فتنے کی دنیا کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا ایک مغالطے کی دنیا (deceptive world) ہے۔ یہاں کی ہر چیز کسی نہ کسی اعتبار سے مغالطے کا رول (deceptive role) ادا کر رہی ہے۔ یعنی موجودہ عارضی دنیا کو مستقل دنیا کے روپ میں دکھانا۔ موجودہ دنیا کی وقتی چیز کو مستقل چیز کی حیثیت سے متعارف کرنا۔ فانی بدایونی ایک اردو شاعر تھے۔ انھیں اپنی زندگی میں کچھ ایسے تجربات آئے جس نے انھیں بتایا کہ موجودہ دنیا ایک بے حقیقت دنیا ہے۔ یہاں کی ہر خوش نمائی صرف ظاہری اور وقتی خوش نمائی ہے۔ اپنے اس تجربے کو انھوں نے ان الفاظ میں نظم کیا تھا: فریب جلوہ اور کتنا مکمل، اے معاذ اللہ! بڑی مشکل سے دل کو بزمِ عالم سے اٹھایا پایا حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا کی ہر چیز مغالطہ آمیز ہے۔ وہ وقتی چیز کو مصنوعی طور پر ابدی رنگ میں دکھاتی ہے۔ کامیاب وہ ہے جو موجودہ دنیا کو عارضی دو حیات سمجھے، اور نا کام وہ ہے جو اس دنیا کو ابدی دو حیات سمجھ لے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues