Al-Risala · October 2006 · page 38

نعمت نہ کہ زحمت

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۸

نعمت نہ کہ زحمت

زُہیر بن ابیٰ سلّمی (وفات: ۶۰۹ء) عرب جاہلیت کا مشہور شاعر تھا۔ ابن الاعرابی نے اس کے بارے میں کہا ہے: کان لزھیر فی الشعر ما لم یکن لغیرہ (زہیر کا درجہ شعر میں وہ تھا جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوا)۔ اس کا ایک قصیدہ سبع معلقہ میں شامل کیا گیا۔ زہیر نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ۔ میں زندگی کی مشقتوں سے اُکتا چکا ہوں، اور جو شخص اسی سال تک زندہ رہے گا، تیرے باپ کی قسم، وہ زندگی سے اکتا جائے گا:

سئمت تکالیف الحياة ومن يعش ثمانين حوئاً لا أبا لك يسأم میری عمر اب اسی سال سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اپنے تجربے کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ لمبی عمر بلا شبہ جسمانی اعتبار سے ایک بوجھ بن جاتی ہے۔ لیکن ذہنی اعتبار سے وہ کوئی بوجھ نہیں بلکہ وہ ایک نعمت ہوتی ہے۔ کیوں کہ زیادہ عمر کا مطلب ہے—زیادہ علم، زیادہ تجربہ، زیادہ معرفت اور زیادہ بصیرت ۔ یہ چیز جو لمبی عمر میں ملتی ہے وہ کسی کو کم عمری میں حاصل نہیں ہوتی۔ آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھے اور اپنے علم اور بصیرت کو مثبت طور پر استعمال کرے تو وہ نہ اُکتائے گا اور نہ مایوس ہوگا، بلکہ وہ نئے حوصلے کے ساتھ از سرِ نو زندگی کا سفر شروع کر دے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر دو صفتیں ہوں۔ ایک، امکاناتِ فطرت کا شعور اور دوسرے، انسان کے ساتھ گہری خیر خواہی۔ جس آدمی کے اندر یہ دو چیزیں ہوں وہ برعکس طور پر یہ سوچے گا کہ آج دنیا کو دینے کے لیے میرے پاس ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ مجھے یہ کرنا چاہیے کہ میں اس سرمائے کو تمام انسانوں کی امانت سمجھوں اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میں اپنی بقیہ زندگی وقف کر دوں۔ زیادہ عمر ایک نعمت ہے، اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔

اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر نا موافق میں ایک موافق پہلو چھپا ہوا ہے۔ بڑھاپا اگرچہ انسان کے لیے بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے لیکن اس کے اندر ایک اعلیٰ درجے کی مطلوب چیز چھپی ہوئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page