Al-Risala · October 2006 · page 39

دانش مند باپ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۶، صفحہ ۳۹

دانش مند باپ

مختار الحسن رفیقی (پیدائش ۱۹۷۲) ایک ہو نہار نو جوان ہیں۔ ان کی تعلیم جامعہ دار السلام عمر آباد میں ہوئی۔ ان کے والد مولا نا محمد رفیق قاسمی ۱۹۹۸ میں دہلی سے کویت جا رہے تھے۔ اس وقت انھوں نے اپنا بایو ڈاٹا دیا اور کہا کہ آپ کویت جا رہے ہیں، وہاں کوشش کیجئے کہ مجھے کوئی جاب مل جائے ۔ یہ بظاہر بیٹے اور باپ کا معاملہ تھا۔ باپ ہمیشہ بیٹے کے لیے نرم دل ہوتا ہے۔ لیکن یہاں بالکل برعکس واقعہ ہوا۔ باپ نے بیٹے کے بایو ڈاٹا کو اس کے سامنے ہی پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ میں اس کو نہیں لے آسکتا۔ آپ اپنے اندر ایسی صلاحیت پیدا کریں جس سے لوگ آپ کو بذات خود مدعو کریں۔ مختار الحسن رفیقی صاحب کو فطری طور پر اس واقعہ پر بہت غصہ آیا۔ وہ یہ سمجھے کہ میرے باپ کو مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو میرے مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے۔ لیکن یہ واقعہ دراصل ایک دانشمند باپ کا واقعہ تھا۔ چنانچہ اس کے بعد یہ ہوا کہ مختار الحسن صاحب ہمیشہ سے زیادہ متحرک ہو گئے ۔ ان کی صلاحیتیں اس جھٹکے کے بعد جاگ اٹھیں۔ انھوں نے بزنس کے میدان میں کام شروع کر دیا۔ اب وہ خدا کے فضل سے ممبئی میں ایک کمپنی میں منیجر ہیں اور ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

عام طور پر باپ کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے ساری سہولتیں فراہم کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں نہ دینا بھی دینے کی ایک صورت ہے۔ جو باپ اپنے بیٹے کو کچھ نہ دے وہ اس کو زیادہ بڑی چیز دے دیتا ہے، اور وہ ہے خود کچھ کرنے کا جذبہ۔

اس دنیا میں سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر عمل کا جذبہ جاگ اٹھے۔ اس کو کام کرنے کی دھن لگ جائے۔ اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھ جائے کہ میں اپنے ہی کیے کا نتیجہ پاؤں گا۔ کسی اور سے مجھے کچھ ملنے والا نہیں۔ ایسا آدمی ایک بے پناہ آدمی بن جاتا ہے۔ اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں جاگ اٹھتی ہیں۔ یہاں تک کہ پہلے کا زیرو آج کا ہیرو بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2006 All issues

Printed page