Al-Risala · November 2006 · page 13

زندگی کا مقصد

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۱۳

مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اس کو وہ موت کے بعد آنے والے لامحدود مرحلۂ حیات میں پالے گا۔ یہ دنیا وہ ہوگی جہاں آدمی اپنے لیے پوری طرح فل فلمینٹ کا تجربہ کر سکے گا۔

موت کے بعد معیاری دنیا ویسا ہی ایک ثابت شدہ واقعہ ہے جیسا کہ دوسرے ثابت شدہ واقعات۔ تاہم مستقبل کی اس معیاری دنیا میں ہر ایک کو خود بخود جگہ نہیں مل جائے گی بلکہ صرف وہ عورت اور مرد اس معیاری دنیا میں جگہ پائیں گے جو موت کے پہلے کی اس دنیا میں اس کا استحقاق ثابت کر سکیں ۔ یہ فطرت کا قانون ہے کہ ہر انعام مستحقین کو ملتا ہے۔ غیر مستحقین کے لیے کبھی کوئی بڑا انعام مقدر نہیں ہوتا۔

سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے لیے اپنے آپ کو اس معیاری دنیا کا مستحق بنانے کا فارمولا کیا ہے۔ وہ فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنے روح کی تطهیر (purification of soul)۔ جو آدمی مستقبل کی اس معیاری دنیا میں اپنے لیے جگہ حاصل کرنا چاہتا ہو اس کو آج کی اس دنیا میں یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے دکھائی دینے والی دنیا (seen world) میں نہ دکھائی دینے والی دنیا (unseen world) کو اپنی بصیرت سے جانا۔ اس نے کنفیوژن کے جنگل میں سچائی کو دریافت کیا۔ اس نے منفی تجربات کے ماحول میں اپنے آپ کو مثبت رویّے پر قائم رکھا۔ اس نے اپنے آپ کو حیوانی سطح سے اوپر اٹھایا اور انسانیت کی اعلیٰ سطح پر کھڑا کیا۔ اس نے اپنے آپ کو بے اعترافی، بددیانتی، سرکشی، خود غرضی، خواہش پرستی اور انانیت جیسی پست صفات سے بچایا۔ جو پورے دل اور جان کے ساتھ جنت کا طالب بنا۔ خلاصہ یہ کہ جس نے خدا رُخی زندگی (God-oriented life) کو پوری طرح اختیار کیا۔

یہ صفات رکھنے والے عورت اور مرد خلاصہ انسانیت ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مستقبل کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔ جو لوگ اس معیار پر پورے نہ اتریں ان کو رد کر کے کائنات کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ کے لیے حسرت کی زندگی گزاریں گے۔ وہ کبھی اس ذلت اور حسرت کی زندگی سے نجات نہ پا سکیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page