الرساله مشن
الرسالہ، فروری ۲۰۰۶، صفحہ ۴
تحت شروع ہوئی۔ اس تحریک میں کسی بھی قسم کے کوئی ردعمل کی آمیزش نہ تھی۔ الرسالہ تحریک ابدی حقائق کی بنیاد پر اٹھی۔ وہ وقتی ہنگاموں کے جواب میں شروع نہیں ہوئی۔
غالباً ۱۹۵۴ء کی بات ہے، میں اعظم گڑھ کی جامع مسجد کے صحن میں پیتے کے درخت کے نیچے کھڑا تھا۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسو جاری تھے اور میری زبان پر بار بار یہ الفاظ آرہے تھے: " خداوند ! تو کب آئے گا ، میں کب تک تیرے آنے کا انتظار کروں"۔
یہ گویا میرے دل کی یہ آواز تھی کہ کاش میں یہ جانوں کہ سچائی کیا ہے اور پھر میں خود اُسی سچائی کو اپناؤں اور ہر دوسرے کو اُس سے باخبر کروں۔
اس طرح واقعات گذرتے رہے یہاں تک کہ میں نے اسلام کی صورت میں سچائی کو دریافت کر لیا۔ اس کے بعد مسلسل طور پر میں اس سچائی کے اعلان میں مشغول ہو گیا۔ غالباً ۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے، اعظم گڑھ میں بڑے پیمانے پر سالانہ نمائش کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر میں نے ایک بک اسٹال کی جگہ حاصل کی اور اپنے ساتھیوں کی مدد سے اسلامی کتابوں کا اسٹال لگایا۔ اس اسٹال کے اوپر نصب کرنے کے لیے میں نے ایک بہت بڑا بورڈ تیار کرایا۔ اس بورڈ پر جلی حرفوں میں یہ لکھا ہوا تھا: And God calls to the home of peace. یہ قرآن کی آیت واللہ يدعو إلى دار السلام (یونس ۲۵) کا انگریزی ترجمہ تھا۔ اس آیت کی تشریح مولا ناشبیر احمد عثمانی نے ان الفاظ میں کی ہے:
"یعنی دنیا کی زائل وفانی زندگی پر مت رجھو۔ دارالسلام (جنت) کی طرف آؤ۔ خدا تم کو سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھلاتا رہا ہے۔ وہ ہی گھر ہے جہاں کے رہنے والے ہر قسم کے رنج و غم، پریشانی، تکلیف، نقصان، آفت اور فنا وزوال وغیرہ سے صحیح وسالم رہیں گے۔ فرشتے اُن کو سلام کریں گے۔ خود ربّ العزت کی طرف سے تحفۂ سلام پہنچے گا۔ (تفسیر عثمانی، صفحہ ۳۷۲) انگریزی کا یہ بورڈ اعظم گڑھ کے ایک آرٹسٹ محمد یوسف مرحوم نے تیار کیا تھا۔ وہ لال رنگ کے چمکدار حرفوں میں تھا اور نمائش گاہ کے اندر داخل ہوتے ہی دور سے دکھائی دیتا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2006 All issues