Al-Risala · November 2006 · page 24

مسلمان مسئلہ کیوں بن گئے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۶، صفحہ ۲۴

مخالف بن جاتے۔ مذہبی رواداری (religious tolerance) جو موجودہ زمانے میں دکھائی دیتی ہے، اس زمانہ میں اس کا سرے سے کہیں وجود نہ تھا۔

یہی زمانی رکاوٹ ہے جس کا سامنا پیغمبرِ اسلام اور آپ کے ساتھیوں کو پیش آیا۔ لوگ پیغمبر اور آپ کے اصحاب کے ساتھ جارحیت کی حد تک نارواداری کا معاملہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا۔ اس وقت قرآن میں یہ حکم دیا گیا کہ : وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين لله (البقرہ ۱۹۳)

اس آیت میں فتنہ سے مراد یہی مذہبی ایذارسانی (religious persecution) ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مذہب کے جائز معاملہ میں تمھارے خلاف تشدد کر رہے ہیں اور جارحیت کی حد تک جا کر تمھارے خلاف رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، اُن سے دفاعی جنگ لڑو، یہاں تک کہ مذہبی جبر (فتنہ) کی حالت ختم ہو جائے اور مذہبی آزادی کی حالت قائم ہو جائے۔ مذہبی جبر یا مذہبی ایذارسانی اپنے آپ میں ایک جارحانہ فعل ہے، اور دوسری جارحیت کی طرح، اس جارحیت کے خلاف جو جنگ کی جائے وہ بھی دفاعی جنگ ہے۔

پیغمبرِ اسلام اور آپ کے اصحاب نے یہی مدافعانہ جنگ کی۔ یہ گویا ایک قسم کا وقتی آپریشن تھا۔ یہ آپریشن بہترین تربیت یافتہ انسانوں کے ذریعہ کیا گیا، اور یہ آپریشن اصحاب رسول کی اگلی ہی نسل میں تقریباً مکمل ہو گیا۔

جیسا کہ معلوم ہے، یہ آپریشن ہجرتِ مدینہ کے بعد شروع ہوا، پہلے عرب میں اور اس کے بعد ایرانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے دائرہ میں ۔ یہ آپریشن پیغمبر اسلام کے زمانہ میں شروع ہوا اور خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ یہ پورا کام خدا کی خصوصی مدد سے ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا آپریشن صرف پچیس سال کے مختصر عرصہ میں مکمل ہو گیا۔ قتالِ فتنہ کی آیت کا یہ مفہوم دوسرے نصوص کے علاوہ، عبداللہ بن عمر کی تشریح سے ثابت ہے، جو صحیح البخاری میں ایک سے زیادہ مقامات پر آئی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2006 All issues

Printed page